خلیجی جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ کی ایئر لائنز کو شدید نقصان کا سامنا

0 minutes, 0 seconds Read
ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث پاکستان سمیت دنیا بھر میں فضائی آپریشن شدید متاثر ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں پروازیں منسوخ اور لاکھوں مسافر مختلف ممالک کے ایئرپورٹس پر پھنس گئے۔

ایکسپریس نیوز کو موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی چھ بڑی ایئر لائنز کو سب سے زیادہ نقصان کا سامنا ہے۔ ان میں اتحاد ایئر ویز، ایئر عربیہ، فلائی دبئی، قطر ایئر ویز، امارات ایئر لائن اور کویت ایئر ویز شامل ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ان چھ ایئر لائنز کی مجموعی طور پر روزانہ 2 ہزار 381 پروازیں مختلف ممالک کے لیے آپریٹ ہوتی تھیں، تاہم جنگی صورتحال کے باعث گزشتہ دس روز کے دوران صرف تقریباً 50 مخصوص پروازیں ہی روانہ ہو سکیں جبکہ مجموعی طور پر 23 ہزار 810 پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔

ان ایئر لائنز کے ذریعے یومیہ لاکھوں مسافر یورپ، امریکا، کینیڈا، بھارت، آسٹریلیا، ملائیشیا، بنگلہ دیش، پاکستان اور سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کے درمیان سفر کرتے تھے۔ معمول کے مطابق کویت ایئر ویز کی روزانہ 285، فلائی دبئی کی 343، امارات ایئر لائن کی 531، اتحاد ایئر ویز کی 334، ایئر عربیہ کی 305 اور قطر ایئر ویز کی 583 پروازیں آپریٹ ہوتی تھیں۔

قطر، امارات اور کویت کی ایئر لائنز کے فضائی بیڑوں میں جدید ترین طیارے شامل ہیں جن میں ایئربس اے 380، اے 320، اے 321، اے 350 اور بوئنگ 777 اور بوئنگ 787 جیسے جدید جہاز شامل ہیں۔ امارات ایئر لائن کی بزنس کلاس میں مسافروں کے لیے بیڈ روم اور نہانے تک کی سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں، تاہم موجودہ صورتحال کے باعث ان ایئر لائنز کو اربوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔

پاکستان ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن کے رہنما خواجہ ایوب نسیم کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو عالمی ایوی ایشن انڈسٹری کو شدید مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹریول ایجنٹس پہلے ہی بڑی تعداد میں ٹکٹوں کی رقم واپس کر کے مشکلات کا شکار ہیں جبکہ ہوٹلوں کی اربوں روپے کی بکنگ نان ریفنڈ ایبل ہونے کے باعث مزید مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد، لاہور، کراچی اور ملتان سے ان ایئر لائنز کی روزانہ تقریباً 100 پروازیں آپریٹ ہوتی تھیں جو اس وقت مکمل طور پر بند ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمرہ اور عید کا سیزن ہوتا ہے، مگر موجودہ حالات کے باعث سفر بری طرح متاثر ہوا ہے۔

خواجہ ایوب نسیم نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو ایوی ایشن اور ٹریول انڈسٹری کو سہارا دینے کے لیے بیل آؤٹ پیکج دینے پر غور کرنا چاہیے۔

Similar Posts