وزارت دفاع کے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان منظوریوں میں اضافی روسی S-400 ٹرائمف سسٹم، سوویت دور کے پرانے An-32 اور Il-76 طیاروں کی جگہ نئے ٹرانسپورٹ طیارے اور مختلف آرٹلری سسٹم شامل ہیں۔ وزارت نے مزید بتایا کہ ان خریداریوں میں فوج کے لیے ٹینک شکن گولہ بارود ، گن سسٹم اور فضائی نگرانی کے نظام، فضائیہ کے زیرِ استعمال Su-30 لڑاکا طیاروں کی اپ گریڈیشن اور کوسٹ گارڈ کے لیے ہوور کرافٹ بھی شامل ہیں۔
نئی منظوریوں میں S-400 کے پانچ یونٹ شامل ہیں جو ان پانچ یونٹس کے علاوہ ہیں جن کا معاہدہ بھارت نے 2017 ء میں کیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان میں سے تین پہلے ہی فراہم کیے جا چکے جبکہ بقیہ دو کی رواں سال آمد متوقع ہے۔ 2025 ء میں پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے دوران بھارتی فوج نے ان سسٹمز کی کارکردگی کو سراہا تھا۔مزید برآں بھارتی وزارت دفاع نے 27 مارچ کو ہی روس کے فوجی برآمد کنندہ، روسو بورون ایکسپورٹ کے ساتھ بھارتی فوج کے لیے ٹنگوسکا (Tunguska) ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم کے حصول کے لیے 4.45 بلین روپے (47 ملین ڈالر) کے معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے۔
بیان میں کہا گیا کہ بھارت نے مجموعی طور پر31 مارچ کو ختم ہونے والے مالی سال میں 6.73 ٹریلین روپے (71 بلین ڈالر) مالیت پہ مشتمل 55 عسکری تجاویز کی منظوری دی اور مزید 503 تجاویز کے لیے 2.28 ٹریلین روپے کے معاہدوں پر دستخط کیے ۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ دونوں اعداد و شمار کسی بھی ایک مالی سال میں سب سے زیادہ ہیں۔
سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق بھارت دنیا کا پانچواں بڑا فوجی خرچ کرنے والا ملک اور یوکرین کے بعد اسلحہ درآمد کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ بھارتی اسلحے کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ سوویت یا روسی ساختہ ہے، اگرچہ ملک اب فرانس، امریکہ، اسرائیل اور جرمنی سمیت سپلائرز کی ایک وسیع رینج سے ٹکنالوجی اور ساز و سامان حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سسٹمز کا حصہ بھی بڑھا رہا ہے۔
یہ اطلاع بھی ہے کہ روس نے بھارت کی اسٹریٹجک فضائی دفاعی پوزیشن مزید مضبوط بنانے کے لیے اضافی صلاحیتوں کی پیشکش کی ہے۔ اس تجویز میں روس کا پینٹسر (Pantsir) شارٹ رینج ایئر ڈیفنس سسٹم شامل ہو سکتا ہے جو اہم فوجی اور تزویراتی مقامات کو بڑے حملوں سے بچانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پیکیج بھارت کے موجودہ فضائی دفاعی نیٹ ورک کو مزید مکمل کرے گا جس میں پہلے ہی روس کے فراہم کردہ سسٹمز کے ساتھ ساتھ مقامی طور پر تیار کردہ پلیٹ فارم بھی شامل ہیں۔
روس بھارت کو ‘پینٹسر-S1M زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل اور گن سسٹم فراہم کرنے کی پیشکش کے لیے تیار ہے تاکہ ملک کے موجودہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے S-400 ٹرائمف سسٹمز کو موثر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ پینٹسر-S1M بغیر پائلٹ کے فضائی طیاروں (UAVs) سمیت تمام اقسام کے ایرو ڈائنامک اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنا سکتا ہے۔
یہ یاد رہے، غیر ملکی میڈیا کی جانب سے پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی ’’بدترین شکست‘‘ قرار دیے جانے کے بعد سے مودی حکومت نے دفاعی بجٹ میں تاریخی اضافے کا اعلان کیا ہے، جس سے خطّے میں بڑھتی عسکریت پسندی کو مزید ہوا ملی ہے۔ جنگی جنون میں مبتلا مودی حکومت بھارت کے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ کر چکی جو کہ مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا 1.9 فیصد بنتا ہے۔ بھارتی حکومت رواں سال دفاع پر 85.4 ارب ڈالر خرچ کرے گی۔ نئے ہتھیاروں کی خریداری کے لیے مختص رقم میں 21 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جو بڑے پیمانے پر اسلحہ جمع کرنے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔اپنے جنگی جنون اور جارحانہ فوجی تیاریوں کو تیز کرتے ہوئے بھارتی حکومت نے ابً 25 ارب ڈالر مالیت کے دفاعی منصوبوں کی منظوری دی ہے۔
اہل پاکستان کے لیے یہ امر لمحہ فکریہ اور خطرے کی گھنٹی ہے کہ بھارت اس وقت اس پیمانے اور تزویراتی گہرائی کے ساتھ میزائلوں کا ذخیرہ جمع کر رہا ہے جو اُسے ابھرتی ہوئی کثیر قطبی (multipolar) دنیا کی اہم ترین فوجی قوتوں میں شامل کردیتا ہے۔ بھارت کے ماہرین عسکریات کا دعوی ہے کہ ان کی مملکت کا حفاظتی تخمینہ بیک وقت دو ایٹمی مسلح ریاستوں کے خلاف معتبر دفاع (deterrence) برقرار رکھنے کی ضرورت سے مشروط ہے: مغرب میں پاکستان جو تقسیم کی تاریخ، علاقائی تنازعات اور بار بار پیدا ہونے والے فوجی بحرانوں کے باعث بھارت سے جڑا ہوا ہے۔اور شمال و مشرق میں چین جس کی بڑھتی روایتی اور اسٹریٹجک صلاحیتیں حل طلب سرحدی تناؤ کے ساتھ جڑی ہیں۔ اس انتہائی عسکری ماحول میں بھارت کی قومی دفاعی منصوبہ بندی میں میزائل سازی کو بنیادی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔
یہ نکتہ قابل ذکر ہے کہ بھارت میں کم ازکم تیس تا چالیس کروڑ لوگ غربت کی لکیر تلے زندگی گذار رہے ہیں۔ یہ افسوس ناک صورت حال ہے کہ مودی حکومت ان کروڑوں لوگوں کا معیار زندگی بلند کرنے کے بجائے کھربوں روپے انسانوں کو قتل کرتے ہتھیار خریدنے پہ خرچ کر رہی ہے۔ ایسی انسان دشمن حکومتوں کی وجہ سے ہی کرہ ارض پہ نفرت و دشمنی کا ماحول بنا ہے اور محبت و امن کے مثبت جذبوں کو گزند پہنچی ہے۔
پچھلی کئی دہائیوں میں بھارت نے محدود فاصلے کے حامل میزائیل سسٹمز سے ترقی کرتے ہوئے ایک ایسی تہہ در تہہ ساخت اپنائی ہے جس میں مختصر اور درمیانی فاصلے کے بیلسٹک میزائل، بین البراعظمی پلیٹ فارم، سمندر سے چھوڑے جانے والے ایٹمی ترسیل کے نظام اور آواز کی رفتار سے تیز سپرسونک کروز میزائل شامل ہیں جنہیں زمین، سمندر اور فضا سے داغا جا سکتا ہے۔
زمین پر مبنی بیلسٹک میزائل: بنیادی دفاع کی تشکیل
بھارت کی موجودہ میزائل پوزیشن دہائیوں کی مسلسل تکنیکی ترقی پر مبنی ہے جو محض فوجی استعمال تک محدود نہیں ۔ 1994 ء سے بھارت کے پاس ملکی تیار کردہ لانچ وہیکلز کے ذریعے پے لوڈز کو مدار میں بھیجنے کی صلاحیت موجود ہے اور وہ آزادانہ طور پر سیٹلائٹ خلا میں بھیجنے والا آٹھواں ملک بن گیا ہے۔ یہ کامیابی 1970 ء کی دہائی میں سیٹلائٹ کی تیاری کے سلسلے میں سوویت یونین کے ساتھ تعاون سے شروع ہوئی۔اس کے بعد بتدریج مقامی ڈیزائن، انجینئرنگ اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں کو مستحکم کیا گیا۔ اب یہ صنعتی بنیاد بھارتی کمپنیوں کو بیلسٹک میزائل سسٹمز کی ایک وسیع رینج تیار کرنے کے قابل بنارہی ہے۔ان میں بین البراعظمی رسائی والے طویل فاصلے کے پلیٹ فارم شامل ہیں اور موجودہ ترجیح 8 ہزار کلومیٹر تک کی رینج والے میزائل سسٹمزکو بہتر بنانے پر ہے۔
یہ صلاحیتیں ایک مربوط تکنیکی ماحول کی عکاسی کرتی ہیں جہاں سویلین اسپیس لانچ کا تجربہ، پروپلشن پر تحقیق، گائیڈنس سسٹمز اور میٹریل انجینئرنگ براہ راست اسٹریٹجک میزائل کی تیاری میں مدد دیتے ہیں۔ اس مہارت کی بدولت بھارت بیلسٹک سسٹمز کی نسل در نسل کو ترقی کرنے میں کامیاب ہوا ہے جس سے رینج اور پے لوڈ کی نفاست میں اضافہ ہوا اور آپریشنل لچک پیدا ہوئی ۔
بھارت کی زمین پر مبنی بیلسٹک میزائل فورسز اس کے تزویراتی دفاعی ڈھانچے کا مرکزی ستون ہیں اور جو کئی دہائیوں کے دوران تیار کردہ جدید ترین سسٹمز کے ذریعے پروان چڑھی ہیں۔ اس شعبے میں پہلا کامیاب قومی منصوبہ ’’پرتھوی SS-150 آپریشنل ٹیکٹیکل میزائل سسٹم ‘‘تھا جسے 150 کلومیٹر کی رینج کے لیے ڈیزائن کیا گیا اور یہ سوویت ‘اسکڈ’ (SCUD) میزائیل کے مماثل تھا۔ پرتھوی نے اپنی پہلی پرواز 1988 ء میں کی تھی اور آج بھی اس کے متعدد ورژن زیرِ استعمال ہیں جن کی رینج تقریباً 250 کلومیٹر تک ہے۔ اگرچہ یہ ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن یہ نظام بنیادی طور پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور چین کے تبت سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں روایتی استعمال کے لیے ہے۔
پاکستان اور چین کے اندر گہرائی میں موجود اہداف کو نشانہ بنانے کی ضرورت کے پیش نظر 1980ء کی دہائی میں ’’اگنی‘‘ پروگرام شروع کیا گیا جس میں توجہ طویل فاصلے تک مار کرتے ٹھوس ایندھن والے بیلسٹک میزائل بنانے پر تھی۔ اگنی اول جس نے پہلی بار 1989 ء میں اڑان بھری، تقریباً 1200 کلومیٹر کی رینج رکھتا ہے اور ایٹمی وار ہیڈ سے لیس ہے۔ ایسے کم از کم 70 میزائل نصب ہیں جنہیں ٹرکوں یا ریل سسٹم پر لگے موبائل لانچ پلیٹ فارمز کی مدد حاصل ہے،یہ پورے بھارتی علاقے میں ان کی نقل و حرکت اور بقا ممکن بناتے ہیں۔
رینج میں مزید توسیع 2002 ء میں اگنی دوم کے متعارف ہونے سے حاصل ہوئی جس نے حملے کی صلاحیت کو تقریباً 2500 کلومیٹر تک بڑھا دیا۔ اگنی اول کے ڈیزائن کی بنیاد پر تیار کردہ یہ متحرک نظام سڑک اور ریل کے ذریعے نقل و حمل کی سہولت برقرار رکھتے ہوئے وسطی اور مغربی چین میں اہداف تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت مسلسل ترقی نے 2006 ء تک اگنی سوم کو جنم دیا، جس کی رینج 5000 کلومیٹر تک ہے۔اس نے ایک مضبوط علاقائی دفاعی فریم ورک قائم کر دیا
بعد کے ورژنوں بشمول اگنی چہارم اور اگنی پنجم نے بھارت کی رسائی کو بین البراعظمی دائرے تک پھیلا دیا۔ اگنی پنجم 8000 کلومیٹر تک کی رینج رکھتا ہے اور اس میں ’’ملٹی پل انڈیپینڈنٹلی ٹارگیٹ ایبل ری اینٹری وہیکل‘‘ (MIRV) ٹیکنالوجی شامل ہے جو ایک ہی میزائل کو مختلف اہداف کے لیے مختص کئی بم لے جانے کے قابل بناتی ہے۔ اس کی تعیناتی 2018 ء کے آس پاس شروع ہوئی تھی اور موجودہ اندازوں کے مطابق بھارت کے پاس ایسے کئی درجن میزائل سسٹم موجود ہیں۔ اگنی پنجم کے فریم ورک کے اندر جاری تکنیکی بہتری میں درستگی بڑھانے اور آپریشنل اختیارات وسعت دینے کی کوششیں شامل ہیں۔ان میں غیر جوہری ورژن بھی شامل ہیں جو محدود شدت والے حالات میں نپا تلا جواب دینے کے لیے بنائے گئے ۔
پرتھوی اور یکے بعد دیگرے اگنی سسٹمز کی تہہ در تہہ ترقی کے ذریعے بھارت نے زمین پر مبنی ایک ایسی میزائل فورس تشکیل دے دی جو ٹیکٹیکل، انٹرمیڈیٹ اور بین البراعظمی رینج تک پھیلی ہوئی ہے اور جو اس کی دفاعی پوزیشن کا بنیادی حصہ ہے۔
بحری حصہ: ایٹمی تثلیث (Nuclear Triad) کی تکمیل
بھارت کی اسٹریٹجک فورسز کے بحری جزو کو اس لیے تیار کیا گیا تاکہ سمندر پر مبنی ایٹمی پلیٹ فارمز کے ذریعے ایک محفوظ ’’سیکنڈ اسٹرائیک‘‘ (جوابی حملے) کی صلاحیت حاصل کی جا سکے۔ یہ کوشش ’’اریہانت کلاس‘‘ آبدوز پروگرام کے تحت ایٹمی توانائی سے چلنے والی بیلسٹک میزائل آبدوزوں کی شمولیت کے ذریعے حقیقت بنی جو مکمل ایٹمی تثلیث فعال کرنے کی طرف ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ توقع ہے کہ صفِ اول کی آبدوز، آئی این ایس اردھمن ڈیزائن، ٹیسٹنگ اور سمندری آزمائشوں کے طویل عرصے کے بعد اس سال اپریل-مئی میں سروس میں داخل ہو جائے گی۔اس سے سمندر میں مسلسل دفاعی گشت کے لیے بنیادی ڈھانچہ قائم ہو جائے گا۔
یہ آبدوزیں مقامی طور پر بھارت کے دفاعی تحقیقی ادارے، ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (DRDO) کی نگرانی میں تیار کردہ بیلسٹک میزائلوں سے لیس ہیں جو بحری پروپلشن کی مہارت کو جدید میزائل انجینئرنگ کے ساتھ یکجا کرتی ہیں۔ ابتدائی طور پر تعینات کیا گیا سسٹم، K-15 ساگاریکا تقریباً 750 کلومیٹر کی رینج فراہم کرتا ہے اور یہ بھارت کا پہلا فعال سمندر پر مبنی ایٹمی ترسیل کا پلیٹ فارم ہے۔ بعد کی ترقی نے K-4 میزائیل متعارف کرایا جس نے بھارتی آبدوز فورس کی رسائی کو تقریباً 3500 کلومیٹر تک بڑھا دیا۔اس سے محفوظ گشتی علاقوں سے دور دراز کے اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنانا ممکن ہو گیا۔
آئی این ایس اردھمن سمیت اضافی آبدوزوں کی شمولیت بھارتی جنگی بیڑے کا سائز بڑھانے اور گشت کے تسلسل کو بہتر بنانے کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔ جیسے ہی یہ اثاثے بھارتی بحریہ کے کمانڈ اسٹرکچر میں ضم ہوں گے، یہ ایک ایسا مستقل پلیٹ فارم فراہم کریں گے جو دشمن کے پہلے حملے کو برداشت کرنے اور جوابی کارروائی کی صلاحیت یقینی بنانے کے قابل ہوگا۔
ڈی آر ڈی او اور تکنیکی خودمختاری کا نظریہ
یہ بات قابل ذکر ہے،بھارت کے اسٹریٹجک میزائل اور دفاعی پروگراموں کی ادارہ جاتی ریڑھ کی ہڈی ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (DRDO) ہے جس نے اسٹریٹجک سسٹمز کی کئی نسلوں میں پروپلشن سسٹم، گائیڈنس ٹیکنالوجیاں، ری اینٹری وہیکلز اور ڈیلیوری پلیٹ فارموں کی مربوط ترقی کی نگرانی کی ہے۔ لیبارٹریوں اور تحقیقی مراکز کے ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے کام کرتے ہوئے ڈی آر ڈی او نے سائنسی تحقیق، صنعتی پیداوار اور فوجی ضروریات کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے ، اہم ٹیکنالوجیاں قومی کنٹرول میں رہیں۔
بیلسٹک میزائل سازی کے ابتدائی مراحل سے لے کر ایم آئی آر وی (MIRV) ٹیکنالوجی سے لیس بین البراعظمی نظاموں کی تیاری تک ڈی آر ڈی او نے مقامی ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ پر مبنی بتدریج صلاحیتوں میں اضافے کے ایک منظم پروگرام پر عمل کیا ہے۔ اس فریم ورک نے بھارت کو اسٹریٹجک نظاموں پر مکمل کنٹرول برقرار رکھنے کے قابل بنایا ہے جس میں تصّوراتی ڈیزائن، میٹریل انجینئرنگ، پروپلشن ریسرچ، فلائٹ ٹیسٹنگ اور بڑے پیمانے پر پیداوار شامل ہیں۔ ان مہارتوں کے استحکام نے حساس شعبوں میں بیرونی سپلائرز پر انحصار کم کر دیا اور بھارت کے دفاعی صنعتی ڈھانچے کو مضبوط بنایا ہے۔
تکنیکی خودمختاری پر اس زور نے خریداری اور پیداواری پالیسی کو بھی تشکیل دیا ہے جس میں مقامی صنعتی شرکت اور اہم اجزا کی مقامی سطح پر تیاری کو مسلسل ترجیح دی گئی ہے۔ تحقیقی اداروں، سرکاری اداروں اور نجی شعبے کے مینوفیکچررز کے درمیان قریبی ہم آہنگی کے ذریعے ڈی آر ڈی او نے ایک ایسا مربوط نظام تیار کیا ہے جو سویلین خلائی لانچ کی سرگرمیوں اور جدید فوجی پروگراموں، دونوں کو سہارا دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اور یہ ڈی آر ڈی او ہی ہے جو روس و بھارت کے مشترکہ برہموس (BrahMos) میزایئل منصوبے میں بھارتی شراکت دار ہے۔
برہموس: پاک-روسی تعاون کا علمبردار
برہموس روس اور بھارت کا ایک مشترکہ منصوبہ ہے اور اسے جدید فوجی-تکنیکی تعاون کی کامیاب ترین مثالوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ روس کے ’’اونیکس‘‘ (Oniks) میزائل مشترکہ ادارے ،برہموس ایرو اسپیس کے ذریعے بھارتی اجزا کا استعمال کرتے ہوئے تیار کیے جاتے ہیں۔ برہموس کا نام دریائے برہم پترا اور دریائے موسکوا (Moskva) کے ناموں سے ماخوذ ہے اور جو دونوں ممالک کے مشترکہ قومی مفادات کی علامت ہے۔ روس کی جانب سے اس منصوبے میں ’’NPO Mashinostroyeniya‘‘ نامی راکٹ ڈیزائن بیورو شامل ہے جو اونیکس میزائل بناتا ہے۔
مختلف پلیٹ فارموں یعنی بحری جہازوں، آبدوزوں، زمینی اور فضائی میزائل سسٹمز سے داغے جانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے برہموس میزائل کی پہلی بار نمائشMAKS-2001 ایئر شو میں کی گئی تھی۔ اس کی آزمائش 2001 ء میں شروع ہوئی اور جنوری 2004 ء میں مشترکہ پیداوار کا آغاز ہوا، جس کا بنیادی مقصد بھارتی بحریہ کو لیس کرنا تھا۔ بھارت اب میزائلوں کی حتمی اسمبلی، لانچرز کی تیاری اور سافٹ ویئر کے ساتھ اپنے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم خود تیار کرتا ہے۔
برہموس ایک سپرسونک کروز میزائل ہے جو ٹھوس ایندھن والے بوسٹر اور ریم جیٹ انجن سے لیس ہے۔ یہ 8.9 میٹر طویل ٹرانسپورٹ لانچ کنٹینر میں محفوظ کیا جاتا ہے اور اس کا وزن تقریباً تین ٹن ہے۔ اس کی آپریشنل رینج کم از کم 290 کلومیٹر ہے، جو میزائل ٹیکنالوجی کی برآمد کے بین الاقوامی ضوابط کے مطابق ہے۔ مزید برآں 400 کلومیٹر رینج والے مکمل طور پر مقامی ورژن کی تیاری پر بھی کام جاری ہے۔ یہ میزائل آواز کی رفتار سے ڈھائی گنا زیادہ (2.8 ماخ سے زیادہ) کی رفتار سے اڑتا اور 300 کلوگرام تک وزنی وار ہیڈ لے جاتا ہے۔یہ خاصیت اِسے کسی بھی طبقے کے بحری جہازوں کے خلاف موثر بنا دیتی ہے۔
بحری جہازوں پر تعیناتی کے بعد برہموس میزائلوں کو زمین پر موبائل لانچرز سے لیس متعدد رجمنٹوں کا حصہ بھی بنایا گیا ہے۔ مزید یہ میزائل نہ صرف بحری جہازوں بلکہ زمین پر موجود اہداف بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پچھلے سال بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے دوران برہموس میزائل استعمال کیے گئے تھے۔
برہموس میزائل کا فضائی ورژن بھی، جسے برہموس اے کہا جاتا ہے، حال ہی میں تیار کیا گیا ہے جس کی آزمائشیں جاری ہیں۔ یہ میزائل روسی ساختہ Su-30MKI کثیر المقاصد لڑاکا طیارے کے ذریعے لے جایا جا سکتا ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ سپرسونک فضائی برہموس-اے میزائلوں کو ایٹمی ہتھیاروں سے بھی لیس کیا جا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں بھارت کے پاس درجنوں ایسے طیارے ہوں گے جو دشمن کے فضائی دفاعی زون میں داخل ہوئے بغیر ایٹمی میزائل داغنے کی صلاحیت رکھیں گے۔ قدرتی طور پر ایک ہائپرسونک پینترا باز (maneuverable) میزائل کسی بھی جدید فضائی دفاعی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔
روسی میزائیل سسٹم اور ہائپرسونک اُفق
بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ یہ عین ممکن ہے کہ برہموس منصوبے کے اگلے مرحلے میں روس کے زرکون (Zircon) ہائپرسونک میزائل پر مبنی میزائل سسٹم کی مشترکہ تیاری شامل ہو جائے۔ آیا یہ ’’برہموس-دوم‘‘ پروجیکٹ کی شکل اختیار کرے گا، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ لیکن یہ بات قابل ذکر ہے کہ زرکون میزائل اُسی روسی ڈیزائن بیورو نے تیار کیے ہیں جو برہموس پروگرام میں شامل ہے۔
اس کے علاوہ بھارت کے فضائی دفاعی ہتھیاروں میں جدید روسی S-400 میزائل دفاعی نظام شامل ہیں۔ یہ نظام 300 کلومیٹر تک کی دوری پر زمینی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی فراہمی کا معاہدہ 2018 ء میں ہوا تھا۔ 2025 ء کے تنازع میں S-400 سسٹمز نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ اسی لیے اضافی یونٹس حاصل کرنے کی خاطر بھارت کی دلچسپی میں نمایاں اضافہ ہوا ۔ مستقبل میں بھارت روس کا تیار کردہ زیادہ جدید S-500 میزائیل ڈیفنس سسٹم بھی حاصل کر سکتا ہے۔
آنے والے مہینے واضح کریں گے کہ روس اور بھارت کے مابین آیا مزید تعاون کے قوی امکانات موجود ہیں یا بھارت مکمل طور پر اپنے میزائل سسٹم تیار کرنے پر توجہ مرکوز کرے گا۔ بھارت فوجی-تکنیکی تعاون میں ایک آزادانہ نقطہ نظر برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے جس میں شاذ و نادر ہی براہ راست اسلحے کی خریداری شامل ہوتی ہے۔اس کے بجائے بھارت اکثر غیر ملکی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرنے کے لیے مقامی پیداوار پر اصرار کرتا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ یہ تعاون کس طرح آگے بڑھتا ہے اور شاید ان کوششوں سے نئے مشترکہ میزائل منصوبے سامنے آ جائیں۔