طالبان پالیسیوں سے افغانستان میں قحط کا خطرہ، تاجروں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

0 minutes, 0 seconds Read
افغانستان میں طالبان حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کے باعث ملک کو شدید معاشی بحران اور ممکنہ غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

افغان میڈیا دی خامہ پریس کے مطابق افغان تاجروں اور کاروباری حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ علاقائی کشیدگی اور تجارتی رکاوٹیں افغانستان کو ایک سنگین غذائی بحران کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

افغانستان چیمبر آف کامرس اینڈ انویسٹمنٹ کے بورڈ رکن خان جان الکوزے نے طالبان حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تاجروں کو مہنگے داموں درآمد کی گئی اشیائے خورونوش کم قیمت پر فروخت کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تجارتی بندش اور خطے میں عدم استحکام کے باعث بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے جبکہ درآمدات میں کمی کے باعث غذائی قلت کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

افغان تاجروں کے مطابق اس وقت مارکیٹ میں صرف ایک سے ڈیڑھ ماہ کے لیے خوراک کا ذخیرہ موجود ہے اور اگر جلد کوئی متبادل تجارتی راستہ نہ ملا تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تجارت میں رکاوٹیں اور ایران کی موجودہ صورتحال کے باعث افغانستان بتدریج معاشی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق طالبان حکومت اقتصادی دباؤ کے باوجود اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ ملک پہلے ہی عالمی سطح پر سفارتی تنہائی کا شکار ہے۔

Similar Posts