حق و باطل کے معرکہ میں سدا
فتح بالیقین ہیں ہم لوگ
پھر ہم قدیم سے جدید دور میں آگئے ‘ ہمیں اسلام سجا سجایا مل گیا’ جنھوں نے دشمناں دیں کے ہاتھوں پتھر کھائے’ صعوبتیں جھیلیں’ قربانیاں دیں’ جنھیں تپتی ریت پر لٹایا گیا ‘ جن پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے گئے وہ رتبہ شہادت پا کر بہشت بریں میں جا بسے اور ہمیں ایک درس عظیم دے گئے کہ شجاعت و دلیری تمہاری میراث ہے ‘ دشمن کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہو جاؤ’ شہادت تمہاری معراج ہے ‘ یہود و نصاریٰ تمہارے ہر گز ہرگز دوست نہیں ہو سکتے یہ اللہ کریم کا حتمی فیصلہ اور اعلان ہے مگر بدقسمتی سے ہم نے نہ صرف یہود و نصاریٰ سے دوستی کر لی بلکہ یہود و نصاریٰ کی مقروض قوم ٹھہری چنانچہ انھوں نے ملت اسلامیہ کو جیسا چاہا استعمال کرنا شروع کر دیا اور باؤلے کتے کی طرح ہم پر بھونکنے لگے۔
تاریخ نے آج پھر ایک کروٹ لی ہے ‘ چاروں طرف طاغوتی طاقتیں اکٹھی ہوکر اسلام کے متوالوں کے خلاف صف آراء ہو چکی ہیں’ مسلم امہ خاموش تماشائی بنی ان کی گھناؤنی سازشوں کے جال میں پھنسی نظر آرہی ہیں’ صرف ایک ایران سر پہ کفن باندھے میدان عمل میں نکل پڑا ہے ‘ دین مبین کی رکھوالی اور اسے سرفراز و سربلند رکھنے کے لیے لازوال قربانیاں دے رہا ہے ‘ اس کا عزم اورولولہ دیدنی ہے ‘ اپنے عظیم رہنما قائد ملت اسلامیہ آیت اللہ خامنہ ای کی عظیم قربانی دے کر بھی حوصلے نہیں ہارے ‘ یہود و نصاریٰ کوایسا سبق سکھا دیا کہ اس کی ہزارنسلیں یہ سبق نہیں بھولیں گی’ جنگ اپنے عروج پر ہے ‘ جہاں اللہ کی مدد شامل ہو جائے وہاں دنیاوی طاقتیں کچھ نہیں بگاڑ سکتیں مگر ہم کتنے بدقسمت ہیں کہ فلسطین کی مقدس سرزمیں لہولہو ہوتی رہی’ معصوم بچوں کے لاشے اٹھتے رہے ‘ ماؤں کی آہ و فغاں’ بوڑھوں کا صبر ‘ بہنوں کے سہاگ اجڑتے رہے ‘ بیٹیاں گریہ کرتی رہ گئیں اور ہم
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا!
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
کشمیر جلتا رہا’ بچوں کو نیزوں پر اچھالا جاتا رہا ‘ ہم خاموش تماشائی بنے رہے ۔مگر ہم ایسے گھمبیر اور سنگین حالات میں اپنے وطن عزیز پاکستان کے عوام’ حکومت اور سب سے بڑھ کر اپنی پاک مسلح افواج کو داد تحسین پیش کرتے ہیں کہ جو ابتلا کی اس گھڑی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کھڑی نظر آرہی ہیں’ قوم کا ہر فرد بلاتفریقی سنی و شیعہ سب ایک ہو چکے ہیں اور ناموس اسلام کی خاطر صہیونی طاقتوں کو جذبہ ایمانی کے تحت للکاررہے ہیں کہ اب طاغوتی طاقتیں مٹ کرہی رہیں گی’ اسلام کا بو ل بالا ہو گا ‘ کل تک جو دشمنوں کی ناپاک چالوں میں پھنس چکے تھے آج وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ
میرا امام ابھی کربلا نہیں پہنچا
میں حر ہوں اورابھی لشکر یزید میں ہوں
اسرائیل اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے ‘ ایران کو اللہ کریم نے اس پر غلبہ عطا کر دیا ہے’ اسلام کے دشمنوں کی رو سیاہی ‘ تباہی اوربربادی لکھ دی گئی ہے ‘ مسلم امہ کا اتحاد’ یگانگت اور یکجہتی ابھر کر سامنے آنیوالی ہے ‘ آج پھر الگ سے اسلامی دنیا بنانے کی اشد ضرورت ہے اپنی الگ اسلامی سلامتی کونسل ‘ اپنی علیحدہ معیشت’ اپنی الگ اسلامی سوچ اور فکر ‘ اپنا عالمی اسلامی بینک’ عالمی اسلامی عدالت ‘ اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار ‘ جرات اور استقلال یہ ہے وقت کا اہم ترین تقاضا۔قارئین کرام! اب مزید ظلم نہیںسہا جاسکتا ‘ ظالم کے ہاتھ روکنے ہوں گے ‘ سرزمین فلسطین سے معصوم بچوں کی چیخ و پکار اب نہیں سنی جاتی’ لہو میں تر بتر لاشیں نہیں اٹھائی جاسکتیں’ اللہ سے دعا ہے کہ پاکستان اور مسلم امہ سلامت تا قیامت رہیں اسلام کو غلبہ حاصل ہو’ اللہ کریم ہمیں اپنے حبیب محمد مصطفی ﷺ سے سچی محبت کی توفیق عطا فرمائے ‘ کالم تمام کرتے ہوئے عرض ہے کہ
معرکہ حق و باطل پھر بپا ہے
اک طرف ہیں جان نثاران حسین ابن علی
دوسری جانب یہودی اور منافق قافلے !
یاد رکھو کل بھی فتح کربلا والوں کی تھی
آج بھی فتح حسین ابن علی والوں کی ہے