بھارت میں گیس کا بحران: لوگ ٹھنڈا کھانا کھانے پر مجبور

0 minutes, 0 seconds Read

مشرقِ وسطٰی میں جاری جنگ کے دوران بھارت میں ایل پی جی کی کمی نے شہریوں کے کھانے پینے کے معمولات متاثر کر دیے ہیں۔ ریسٹورنٹس کی کینٹین اور ہاسٹلز نے گرم کھانے، چائے اور کچھ روایتی پکوان کے مینیو ہٹا دیے ہیں اور اس کی جگہ ٹھنڈی ڈشز اور مشروبات کو ترجیح دی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بھارت کے مختلف شہروں چنائی اور بنگلور میں کینٹین اور ہاٹلز میں گرم کھانے اور مشروبات، حتیٰ کہ چائے تک، اب مینیو سے غائب ہو گئے ہیں۔ اس کے بدلے میں کم ایندھن والے کھانے اور لیموں پانی پیش کیا جا رہا ہے تاکہ محدود ایل پی جی کے ذخائر زیادہ دنوں تک چل سکیں۔

یہ کمی اس وقت پیدا ہوئی جب ایران کی جنگ کے بعد آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کے ذریعے بحری نقل و حمل تقریباً رک گئی، جس سے توانائی اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہوا اور مشرق وسطیٰ کے تیل اور گیس کے پیداوار کنندگان متاثر ہوئے۔

بھارت، جو دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ایل پی جی درآمد کنندہ ہے، نے ہنگامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ریفائنریوں سے پیداوار بڑھانے کا کہا ہے، مگر کینٹینز اور ہاسٹلز اب بھی محدود سپلائی کی وجہ سے مینیو بدلنے پر مجبور ہیں۔

گجرات میں ایک آٹو پارٹس پلانٹ نے اپنی کینٹین میں فرائیڈ آئٹمز کو ہٹا کر چائے کی جگہ لیموں پانی اور گرم سوپ کی جگہ دہی یا بٹر ملک پیش کرنا شروع کر دیا۔ تامل ناڈو میں بھی ہاسٹل ایسوسی ایشن نے ممبرز کو چائے، کافی اور روٹی بنانے سے روک دیا۔

بنگلور کی پی جی مالکان ایسوسی ایشن کے صدر ارون کمار ڈی ٹی کے مطابق، موجودہ گیس اسٹاک چار سے پانچ دن کے لیے کافی ہے اور کم ایندھن والی ڈشز بنانے سے اس مدت میں دو دن کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ محدود ایندھن ریسٹورنٹس کی صلاحیت کو کم کر سکتا ہے اور فوڈ ڈیلیوری پلیٹ فارمز پر اثر ڈال سکتا ہے۔ اس دوران صارفین الیکٹرک اوون اور فرائیر استعمال کرنے والے فاسٹ فوڈ چینز کی طرف رجوع کر سکتے ہیں۔

نیو دہلی کی ایک مشہور روڈ سائیڈ دکان کے مالک نے بتایا کہ آج صرف دال چاول ہی پیش کیے جا رہے ہیں، جب کہ دہلی ہائی کورٹ کی کینٹین نے گرم کھانے بند کر کے صرف سینڈوچز پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Similar Posts