مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے سب سے حساس اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ خطہ عالمی طاقتوں کی سیاسی کشمکش، عسکری مداخلت اور اقتصادی مفادات کا مرکز رہا ہے، مگر حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے حالات کو ایک نئی اور غیر یقینی سمت میں دھکیل دیا ہے۔
حالیہ جنگی صورتحال کے دوران امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے دیا گیا یہ بیان کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے اور امریکا اس میں واضح برتری حاصل کر چکا ہے، عالمی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کا فیصلہ دراصل ان کے ہاتھ میں ہے اور امریکا نے اپنے طے شدہ شیڈول سے بھی پہلے اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ بظاہر یہ بیان ایک کامیاب عسکری حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے، مگر اس بیان کے پس منظر میں چھپی حقیقتیں کہیں زیادہ پیچیدہ،گہری اور عالمی اثرات کی حامل ہیں۔
جنگیں محض میدانِ جنگ میں لڑی جانے والی لڑائیاں نہیں ہوتیں بلکہ ان کے اثرات سیاسی، معاشی، سفارتی اور انسانی سطح پر طویل عرصے تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان موجودہ تنازع بھی اسی نوعیت کا ہے جس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق فضائی اور زمینی کارروائیوں کے دوران ہزاروں اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے جب کہ متعدد بحری جہازوں اور عسکری تنصیبات کو تباہ کیا گیا ہے۔ امریکی عسکری قیادت کا دعویٰ ہے کہ ایران کی دفاعی اور بحری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اس کی جنگی استعداد کمزور پڑ چکی ہے۔ تاہم تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جنگ میں صرف عسکری اہداف کو تباہ کرنا ہی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتا۔
گزشتہ دو دہائیوں کی عالمی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو واضح ہوتا ہے کہ طاقتور ممالک کی عسکری برتری کے باوجود سیاسی اور سماجی استحکام کا حصول ہمیشہ ایک مشکل مرحلہ ثابت ہوا ہے۔ عراق اور افغانستان کی جنگیں اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ دونوں جنگوں میں ابتدائی مرحلے میں فوجی کامیابی کا دعویٰ کیا گیا تھا، مگر بعد میں یہ تنازعات طویل اور پیچیدہ بحرانوں میں تبدیل ہو گئے۔ یہی خدشہ موجودہ ایران امریکا تنازع کے حوالے سے بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، اگرچہ امریکا عسکری میدان میں برتری حاصل کر سکتا ہے، لیکن خطے میں پائیدار استحکام کا حصول اتنا آسان نہیں ہوگا۔
اس جنگ کا سب سے خطرناک پہلو عالمی توانائی کی فراہمی اور سمندری تجارت کے لیے پیدا ہونے والا بحران ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے سمندری راستے عالمی معیشت کی شہ رگ سمجھے جاتے ہیں، خصوصاً آبنائے ہرمز جس کے ذریعے دنیا کے ایک بڑے حصے تک خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران خلیج عرب، خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کے علاقوں میں متعدد تجارتی اور تیل بردار جہازوں پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ برطانوی میری ٹائم مانیٹرنگ اداروں کے مطابق تنازع کے آغاز کے بعد سے کم از کم تیرہ تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے جب کہ کئی مشکوک سرگرمیوں کی رپورٹس بھی موصول ہوئی ہیں۔
یہ صورتحال نہ صرف سمندری سلامتی کے لیے خطرہ ہے بلکہ عالمی تجارت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ ان حملوں کے حوالے سے یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ دھماکہ خیز مواد سے لیس بغیر عملے کی کشتیوں اور سمندری بارودی سرنگوں کا استعمال کیا گیا۔ جدید جنگی حکمت عملی میں اس قسم کے ہتھیاروں کا استعمال نہ صرف حملہ آور کے لیے نسبتاً آسان ہوتا ہے بلکہ اس کے ذریعے بڑے پیمانے پر اقتصادی نقصان بھی پہنچایا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر بحری سلامتی کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ایران کی جانب سے دی گئی حالیہ دھمکیوں نے بھی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ایرانی عسکری ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ایران اب صرف دفاعی ردعمل تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دشمنوں کے خلاف پیشگی اور مسلسل کارروائیوں کی حکمت عملی اختیار کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جنگ کا دائرہ مزید پھیلتا ہے تو ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل روک سکتا ہے۔ یہ بیان عالمی معیشت کے لیے ایک سنگین انتباہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اگر واقعی آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل رک جاتی ہے تو اس کے اثرات فوری طور پر عالمی منڈیوں میں محسوس ہوں گے۔ توانائی کے ماہرین کے مطابق ایسی صورت میں تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ اس وقت دنیا کی بڑی معیشتیں پہلے ہی معاشی دباؤ اور مہنگائی کے مسائل کا سامنا کر رہی ہیں، اگر تیل کی قیمتیں اچانک اس حد تک بڑھ جاتی ہیں تو اس کا اثر صنعتوں، ٹرانسپورٹ، زراعت اور عام صارفین تک پہنچے گا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی کسی بھی جنگ کا اثر صرف تیل تک محدود نہیں رہتا بلکہ عالمی تجارت کے وسیع نظام کو متاثر کرتا ہے۔ سمندری راستے جدید عالمی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اگر خلیجی پانیوں میں جہاز رانی غیر محفوظ ہو جاتی ہے تو نہ صرف توانائی بلکہ دیگر تجارتی اشیاء کی ترسیل بھی متاثر ہوگی۔ اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر سپلائی چین کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔اس تنازع کا ایک اہم پہلو عالمی طاقتوں کا ممکنہ کردار بھی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی ہمیشہ سے بڑی طاقتوں کے مفادات سے جڑی رہی ہے، اگر یہ جنگ طویل ہوتی ہے تو اس بات کا امکان ہے کہ دیگر عالمی قوتیں بھی براہِ راست یا بالواسطہ اس تنازع میں شامل ہو جائیں۔ اس صورت میں یہ بحران ایک وسیع علاقائی یا حتیٰ کہ عالمی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
اسی طرح اس جنگ کے انسانی پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جنگیں ہمیشہ عام شہریوں کے لیے سب سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوتی ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کی تباہی، معاشی بحران، بے روزگاری اور مہنگائی جیسے مسائل براہِ راست عوام کو متاثر کرتے ہیں۔ حالیہ بحران میں بھی یہی صورتحال نظر آ رہی ہے ۔اس صورتحال میں عالمی طاقتوں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ روس اور چین نے امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں پر سخت بیانات دیتے ہوئے ایران کے ساتھ سفارتی ہمدردی کا اظہار کیا ہے، تاہم اب تک انھوں نے براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی دہائیوں سے سیاسی عدم استحکام اور جنگوں کا شکار رہا ہے، اس لیے ایک نئی جنگ اس خطے کے عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔اس تمام صورتحال میں عالمی برادری کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس بحران کو سفارتی ذرائع سے حل کیا جا سکتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی مراحل میں اکثر فریقین اپنی عسکری برتری کے دعوے کرتے ہیں، مگر بالآخر تنازعات کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی نکلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ امریکا اور ایران دونوں کو کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔
دنیا اس وقت جس غیر یقینی صورتحال سے گزر رہی ہے، اس میں سب سے زیادہ ضرورت ذمے دارانہ قیادت اور دانشمندانہ فیصلوں کی ہے۔ طاقت کے استعمال کے ذریعے وقتی کامیابی تو حاصل کی جا سکتی ہے، مگر پائیدار امن صرف مکالمے، تعاون اور باہمی احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے جنگوں اور بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی طاقتیں اس خطے کو مزید جنگ کا میدان بنانے کے بجائے امن اور استحکام کی طرف لے جانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔ عالمی قیادت نے بروقت اور مؤثر سفارتی کوششیں نہ کیں تو موجودہ تنازع ایک ایسے بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے جس کے اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کو طاقت کے مظاہرے سے زیادہ امن کی حکمت عملی کی ضرورت ہے،کیونکہ تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ جنگیں وقتی فتوحات تو دے سکتی ہیں مگر مستقل امن صرف دانشمندانہ سیاسی فیصلوں سے ہی حاصل ہوتا ہے۔