مشرقِ وسطیٰ کا بحران اور پاکستان کی سفارتکاری

0 minutes, 0 seconds Read
ایران تنازع کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کا دورہ کیا اورسعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی، دونوں رہنماؤں کے درمیان خطے میں حالیہ پیشرفت پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا، خطے کے امن و استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ طور پرکام جاری رکھنے پر اتفاق ہوا۔ دوسری جانب ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنا پہلا بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایران حملے جاری اورآبنائے ہرمزکو بند رکھے گا، جب کہ امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ امریکا کے لیے نفع بخش ہے۔

 ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ فوجی کارروائیوں نے پورے خطے کو جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف علاقائی امن کے لیے خطرناک ہے بلکہ اس کے اثرات عالمی سیاست، معیشت، توانائی کی فراہمی اور عالمی سلامتی کے نظام تک پھیل سکتے ہیں۔ ایسے حساس اور نازک حالات میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ اس کے روابط خصوصی اہمیت اختیارکرگئے ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف کا حالیہ دورہ سعودی عرب اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر مشاورت اور امن و استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی کی تلاش تھا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور جنگی کارروائیاں ایک وسیع شکل اختیارکرتی جا رہی ہیں۔

اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے وسیع فضائی حملوں نے خطے میں شدید رد عمل کو جنم دیا ہے۔ ان حملوں کے جواب میں ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کی جانب سے مختلف کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ لبنان میں موجود حزب اللہ نے اسرائیل پر سیکڑوں راکٹ داغے جب کہ اسرائیلی فضائی دفاعی نظام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح ایران کی جانب سے عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر حملوں کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔

 اطلاعات کے مطابق بعض امریکی بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جب کہ دبئی کے مرکزی علاقے میں دھماکوں کی اطلاعات نے خلیجی خطے میں خوف اور تشویش کی فضا پیدا کر دی ہے۔ عراق کے شہر بصرہ میں بندرگاہ پر آئل ٹرمینلزکی بندش اور بحرین میں تیل کے ٹینکوں میں آتشزدگی جیسے واقعات نے عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ خلیجی ممالک میں عید کی تقریبات اور مختلف عوامی پروگرام بھی منسوخ کیے جا رہے ہیں جب کہ سیاحت اور فضائی سفر کے شعبے کو روزانہ کروڑوں ڈالر کے نقصانات کا سامنا ہے۔

ان واقعات کے فوری اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک بار پھر سو ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اس اضافے سے نہ صرف ترقی پذیر ممالک بلکہ بڑی معیشتوں کو بھی شدید دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے یا وہاں سے تیل کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی تجارت اور معیشت کے لیے انتہائی سنگین ثابت ہو سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے دنیا کے تیل کا ایک بڑا حصہ گزر کر عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس علاقے میں کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی عالمی سطح پر فوری تشویش کا باعث بنتی ہے۔ حالیہ دنوں میں یہ خدشات بھی سامنے آئے ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند کرنے یا وہاں بارودی سرنگیں بچھانے کی حکمت عملی اختیار کر سکتا ہے۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے بیان میں واضح طور پر کہا ہے کہ ایران اپنے خلاف ہونے والے حملوں کا جواب دیتا رہے گا اور آبنائے ہرمزکو بند رکھنے کے فیصلے پر قائم رہے گا۔

 موجودہ بحران صرف ایران اور اسرائیل کے درمیان محدود نہیں رہا بلکہ اس میں بڑی عالمی طاقتوں کے براہ راست ملوث ہونے کا خطرہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ امریکا پہلے ہی اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی سمجھا جاتا ہے جب کہ خطے میں اس کے متعدد فوجی اڈے موجود ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان نے بھی عالمی سطح پر بحث کو جنم دیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ امریکا کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اس طرح کے بیانات عالمی بحران کے دوران غیر ذمے دارانہ سمجھے جا سکتے ہیں کیونکہ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ عالمی طاقتیں بعض اوقات معاشی مفادات کو انسانی جانوں اور عالمی امن پر ترجیح دیتی ہیں۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اس صورتحال میں یہ اعلان کیا ہے کہ وہ روس اور پاکستان کے رہنماؤں سے رابطے میں ہیں تاکہ موجودہ بحران کے حوالے سے سفارتی مشاورت جاری رکھی جا سکے۔ یہ بات اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے کے اہم ممالک اس بحران کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

پاکستان کی جانب سے اس صورتحال میں انتہائی متوازن اور ذمے دارانہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کے آغاز کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں اور مزید کشیدگی سے گریز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روح کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔

پاکستان کا یہ مؤقف دراصل اس اصولی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت پاکستان ہمیشہ علاقائی اور عالمی تنازعات کے حل کے لیے سفارتکاری اور مذاکرات کو ترجیح دیتا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں استحکام پاکستان کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ لاکھوں پاکستانی محنت کش اس خطے کے مختلف ممالک میں کام کر رہے ہیں اور پاکستان کی معیشت کے لیے ان کی ترسیلات زر انتہائی اہم ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے سعودی عرب، ایران اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات بھی ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف کا سعودی عرب کا دورہ اسی تناظر میں ایک اہم سفارتی قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ پاکستان نہ صرف سعودی عرب کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات کو اہمیت دیتا ہے بلکہ ایران کے ساتھ بھی اچھے ہمسایہ تعلقات برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سفارتکاری کا بنیادی مقصد خطے میں توازن برقرار رکھنا اور کسی بڑے تصادم کو روکنے کے لیے کردار ادا کرنا ہے۔تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کئی دہائیوں سے تنازعات، جنگوں اور سیاسی کشمکش کا مرکز رہا ہے۔ ان تنازعات نے لاکھوں انسانوں کی جانیں لی ہیں اور کروڑوں لوگوں کو بے گھر کیا ہے۔ اس لیے عالمی برادری کی یہ ذمے داری بنتی ہے کہ وہ موجودہ بحران کو مزید بڑھنے سے روکے اور فوری طور پر سفارتی اقدامات کو تیز کرے۔

اقوام متحدہ، یورپی یونین، اسلامی تعاون تنظیم اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو چاہیے کہ وہ اس بحران کے حل کے لیے فعال کردار ادا کریں۔ جنگ بندی، مذاکرات اور اعتماد سازی کے اقدامات ہی وہ راستے ہیں جو اس خطے کو مزید تباہی سے بچا سکتے ہیں۔دنیا کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے استعمال سے مسائل کا مستقل حل ممکن نہیں ہوتا۔ مشرقِ وسطیٰ کو اس وقت سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ امن، استحکام اور اقتصادی ترقی ہے، اگر خطے کے ممالک مسلسل جنگ اور کشیدگی میں الجھے رہیں گے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑے گا۔ایسے حالات میں پاکستان جیسے ممالک کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے جو ایک متوازن اور اصولی سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کرتے ہیں۔ پاکستان کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ وہ عالمی فورمز پر امن، مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے اپنی آواز بلند کرتا رہے۔

موجودہ بحران دنیا کے لیے ایک اہم امتحان ہے۔ اگر عالمی قیادت نے دانشمندی، تحمل اور دوراندیشی کا مظاہرہ کیا تو اس بحران کو قابو میں لایا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر طاقت کے استعمال اور جارحانہ بیانات کا سلسلہ جاری رہا تو یہ تنازع ایک بڑے اور خطرناک تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

لہٰذا وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ تمام فریق فوری طور پر جنگ بندی کریں، مذاکرات کی میز پر آئیں اور ایک ایسا حل تلاش کریں جو خطے میں پائیدار امن کی بنیاد بن سکے۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو ایک نئے بحران سے بچا سکتا ہے۔

Similar Posts