ڈاکٹروں نے ثابت کردیا ہے کہ ان سے ’’بڑا‘‘کوئی بھی کہیں بھی نہیں ہے۔ہاں’’ایک‘‘ہے لیکن لوگ اس کے پاس جاتے نہیں بلکہ وہ خود لوگوں کے پاس جاتا ہے اور جب لوگوں کو اپنے پنجہ استبداد میں لے لیتا ہے تو پھر کبھی نہیں چھوڑتا نام تو اس کے بہت سارے جاتے ہیں منتخب نمائندہ۔جمہوری شہنشاہ‘ سیاسی دادا‘ جمہوری ڈکٹیٹر،فنڈہضم‘بجٹ ہضم،ملازمت فروش وغیرہ لیکن آج یہ مینڈیٹ کہلاتا ہے دراصل یہ برہمن اور کشتری ہوجاتے ہیں اور کالانعاموں کو شودر بنادیتے ہیں۔خیر مینڈیٹ اور مینڈیٹ فروشوں کو چھوڑیے کہ اب ہمارا مستقل نصیبہ ہوچکے ہیں اپنی اصل بات پر۔یعنی ڈاکٹر؟ سینہ کے تیر۔ سانپ بچھو کے ڈنک،پھیپھڑے کے جبڑے۔
پتھر کے خدا پتھر کے صنم پتھر ہی کے انساں پائے ہیں
تم ’’شہر‘‘ سمجھتے ہو جس کو ہم جان بچاکر آئے ہیں
’’شفاخانے‘‘سمجھتے ہو جس کو پوچھو نہ وہاں کیا حالت ہے
ہم بھی وہاں سے لوٹے ہیں بس شکر کرو لوٹ آئے ہیں
کبھی کسی کونے کھدرے میں اکادکا ایسے ہوں جو اگلے وقتوں کے مسیحا ہوں گے باقی وہ اجرتی قاتل۔جو قتل کا معاوضہ بھی مقتول سے وصول کرتے ہیں
ابھی تم قتل گہہ کو دیکھتا آساں سمجھتے ہو
نہیںدیکھا شناور جوئے خوںمیںاس کے ’’توسن‘‘کو
اور یہ قتل گہہ ہر جگہ ہر مقام ہر شہر ہربازار ہر گلی ہر کوچے میں پھیلے ہیں۔مذکورہ ڈاکٹر کو یا تو پتہ نہیں یا جان بوجھ کر کاروباری انداز سے کام لے رہا ہے ورنہ
دہن شیر میں جا بیٹھے لیکن اے دل
نہ کھڑے ہوجیے اس شخص دل آزار کے پاس
کہتے ہیں ڈاکٹر سے رجوع کریں۔صاف صاف یہ کیوں نہیں کہتے کہ بھیڑیے کے منہ میں اپنا سر دے دیجیے۔ہم نے تو عرصہ ہوا ان کو یہ فضول قسم کے غلط سلط ناموں جیسے ڈاکٹر،معالج،مسیحا وغیرہ کہنا چھوڑ دیا ہے سیدھے سیدھے اصلی نام سے یاد کرتے ہیں ایجنٹ۔جسے دیسی زبان میں مختلف ناموں سے پکارتے ہیںاور وہ بھی کسی ایک نہیں بیماریوں کے ڈسٹری بیوٹر،کمپنیوں کے ایجنٹ۔اور موت کے ہرکارے لوٹ ماروں کے لٹیروں کے سردار بلکہ ہمارا خیال ہے کہ موت کے سوداگر بھی اتنے بُرے نہیں، مرنا تو سب کو ہے اور بروقت آجائے تو کوئی بات نہیں۔ لیکن نچوڑ نچوڑ کر چوس چوس کر دھیرے دھیرے مارنا۔ قسطوں میں مارنا؟ظلم کی انتہا ہے اور یہ سلسلہ اتنا وسیع پیمانے پر رواں دواں ہے کہ شہروں میں مکانات دھڑا دھڑ ڈھائے جارہے ہیں اور ان کی جگہ کلینک اسپتال، میڈیکل اسٹور اور لیبارٹریاں ابھر رہی ہیں۔
ہمارے چند دوست ڈاکٹر تھے ہم جن کے پاس جب جاتے تھے تو ہم سے فیس نہیں لیا کرتے بلکہ کبھی سیمپل بھی دے دیا کرتے تھے لیکن اس وقت یہ ’’تازہ‘‘ زہریلی ہوا نہیں چلی تھی، انسان کچھ کچھ انسان اور ڈاکٹر میں کچھ کچھ ڈاکٹر بھی ہوا کرتے تھے۔
بیچ میں کافی عرصہ گزر گیا ہے اب جب ہم ان کے پاس جاتے ہیں تو مروت برقرار رکھے ہوئے ہیں حسب معمول فیس نہیں لیتے لیکن جب وہاں سے نکلتے ہیں تو دس پندرہ ہزار کا جرمانہ بھر کر نکلتے ہیں کیونکہ ٹیسٹوں، ایکسریز اور دواؤں کے تھیلے ساتھ ہوتے ہیں۔اور یہ ان کی بھی مجبوری ہے جن لوگوں نے ان کو بٹھایا اس لیے ہے کہ ان کے گلشن کا کاروبار خوب چلے۔لیکن۔ڈاکٹر تو پھر بھی مرد ہیں اور مرد تو اکثر ظالم اور پتھردل ہوتے ہیں بہت زیادہ دکھ ان خواتین ڈاکٹروں۔معلوم نہیں قصائی کی مونث کیا ہے شاید قصائین ہاں تو ان قصائیوں کو دیکھ کر دل لہولہان ہوجاتا ہے کہ عورت تو سراسر پیار ہی پیار رحم ہی رحم، مامتا ہی مامتا ،شفقت ہی شفقت اور قربانی ہوتی ہے۔
یہ کیسی عورتیں ہیں جنہوں نے قسم کھا رکھی ہے کہ کوئی عورت ہمارے ہاں سے صحیح سلامت پیٹ لے کر نہیں جائے گی حالانکہ بچہ جننا کوئی بیماری نہیں ہے ایک قدرتی اور فطری عمل ہے کسی جانور کے بارے میں تو کبھی نہیں سنا ہے کہ بچہ جننے کے دوران اس کا پیٹ کاٹنا اور پھاڑنا پڑا ہو۔ پیٹ ہیں کہ پھاڑے جارہے ہیں ہمیں تو ایسا لگتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب کوئی بھی عورت سالم پیٹ والی نظر نہ آئے گی ان قصائیوں کے سوا اور ہاں وہ ایک کہاوت کہ بستی ابھی بسی نہیں کہ ڈاکو آگئے۔اس میں تھوڑی سی صرف ایک لفظ میں ایک دو حروف کی تبدیلی کرنا پڑے گی بستی ابھی بسی نہیں کہ…آگئے کیونکہ ہم نے ایسے ایسے مقامات پر بھی کلینک دیکھے ہیں جہاں دور دور تک کوئی بستی نہیں ہوتی ۔ہمارے پڑوس ایک بیوہ خاتون تھی جو پاس کے قصبے میں ایک ڈاکٹرنی عرف قصائین کے کلینک میں ملازم تھی ایک دن معلوم ہوا کہ ڈاکٹرنی نے اسے نوکری سے نکال دیا ہے۔
وجہ پوچھی تو بولی کہ ایک کیس آیا تو ڈاکٹرنی اس وقت موجود نہیں تھی ، مریضہ کو بستر پر لٹا کر میں نے ڈاکٹرنی کو فون کرنا چاہا تو میرے موبائل میں پیسے نہیں تھے، جلدی سے باہر نکلی، فون کا پیٹ بھرا ، ڈاکٹرنی کو فون پر کلینکس کی اطلاع دی لیکن ڈاکٹرنی کے آتے آتے نارمل ڈیلیوری ہوگئی تھی۔ ڈاکٹر نے مجھے آرے ہاتھوں لیا ، میں نے بہت سمجھایا فون میں بیلنس نہ ہونے کی بات کی لیکن اس نے مجھے نکال دیا کہ تو نے بر وقت مجھے اطلاع نہیں دی اور شکار صحیح سلامت اور سالم پیٹ لے کر نکل گیا۔ یقین نہیں آتا کہ ہم ایک ایسے ملک میں ہیں جسے اسلام کا مرکز ثانی کا دعویٰ ہے، تلقین ہی تلقین، ہدایت ہی ہدایت، رہنمائیاں ہی رہنمائیاں، دعوے ہی دعوے، عبادتیں ہی عبادتیں،بیان ہی بیان۔اور بلکہ لگتا ہے جیسے ہم افریقہ کے کسی دور دراز جنگل کے اندر آدم خور بستی میں ہوں۔