بھارتی شہر فیروز آباد میں اسلحہ فیکٹری میں کام کرنے والے رویندر کمار نامی افسر کو مبینہ طور پر پاکستان کیلئے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق رویندر کمار ہنی ٹریپ کا شکار ہو کر پولیس کی گرفت میں آیا گیا، اتر پردیش کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ (یو پی اے ٹی ایس) نے آگرہ سے اس کے ساتھی کو بھی حراست میں لیا، جن پر بھارتی پولیس نے پاکستان میں مقیم ہینڈلرز کے ساتھ خفیہ فوجی معلومات بھیجنے کا بھی الزام عائد کیا۔
بھارتی پولیس حکام کے مطابق رویندر کمار، جو حضرت پور، فیروز آباد میں اسلحہ ساز فیکٹری میں کام کرتا تھا، اس کے پاس اہم دستاویزات تک رسائی تھی۔ رویندر کمار پر الزام عائد کیا گیا کہ پاکستان کیلئے جاسوسی کر رہا ہے اور کسی پاکستانی جاسوس خاتون کے ساتھ رابطے میں ہے جس سے اس نے خفیہ معلومات شیئر کیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ان معلومات میں روزانہ پروڈکشن اپ ڈیٹس، خفیہ خطوط اور بھارت کی ڈرون ٹیکنالوجی اور گگنیان خلائی پروگرام کے بارے میں تفصیلات شامل تھیں، جس کا مقصد انسانوں کو خلا میں بھیجنا شامل ہے۔
بھارتی مسلمان نوجوان پاکستان کیلئے جاسوسی کے الزام میں گرفتار
بھارتی پولیس کے مطابق مذکورہ خاتون کا نام نیہا شرما بتایا گیا، جس کا گزشتہ سال فیس بک پر رویندر سے رابطہ قائم ہوا۔ نیہا نے کمار کو بتایا کہ پاکستان کے لیے کام کرتی ہے، تاہم اس کے باوجود خاتون اسے ہنی ٹریپ میں پھنسانے میں کامیاب ہو گئی۔
تفتیش کاروں نے دریافت کیا کہ رویندرا نے اپنی گفتگو چھپانے کے لیے اپنا فون نمبر ”چندن اسٹور کیپر 2“ کے طور پر محفوظ کیا تھا۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے اسے واٹس ایپ پر خفیہ دستاویزات بھیجی تھیں، ممکنہ طور پر اس کے بدلے میں اسے رقم دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔
صرف 200 روپے میں پاکستانی جاسوس بننے والا بھارتی شہری گرفتار
تلاشی کے دوران، یوپی اے ٹی ایس کو رویندر کے فون پر حساس معلومات ملی، جس میں اسلحہ ساز فیکٹری اور 51 گورکھا رائفلز رجمنٹ کے سینئر افسران کے ڈرون ٹرائل کے بارے میں خفیہ تفصیلات بھی شامل ہیں۔بھارتی حکام نے دعویٰ کہ رویندر کمار پاکستان کیلئے جاسوس کر رہا تھا اور بھارتی دفاعی منصوبوں کے بارے میں معلومات شیئر کرتا تھا۔
تاہم رویندر کی گرفتاری کے بعد اتر پردیش کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ نے آگرہ سے کمار کے ایک اور ساتھی کو بھی گرفتار کیا۔ انہیں ڈیجیٹل شواہد ملے ہیں، جیسے واٹس ایپ پیغامات اور خفیہ دستاویزات، جن کا اب تحقیقات کے حصے کے طور پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔