اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کیلیے پاکستان نے اپنے قریبی اتحادی بیجنگ کی تازہ ترین سفارتی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔
چین نے حال ہی میں دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی کم کرنے کیلیے افغانستان کے لیے اپنے خصوصی ایلچی کو کابل اور اسلام آباد بھیج کر سفارتی کوششیں تیز کی ہیں۔
خصوصی ایلچی اس وقت افغانستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی کوشش میں مصروف ہے۔چین کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر خارجہ وانگ ژی نے افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی سے بھی ٹیلی فون پر بات چیت کی اور صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
چین کو امید ہے کہ دونوں فریق صبرو تحمل کا مظاہرہ کریں گے اور جلد از جلد براہ راست ملاقات اورجنگ بندی کر کے تنازعات اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں گے۔
بیجنگ نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مفاہمت اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فعال کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
باخبر ذرائع نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ پاکستان نے بحران کو کم کرنے کے لیے چین کی مخلصانہ کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے واضح کیا کہ کابل کے ساتھ معمول کی سفارتی کوششوں کی واپسی زمینی تبدیلیوں کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے چین کو آگاہ کیا کہ اسلام آباد طالبان حکومت کے حوالے سے اپنی موجودہ پالیسی اپنانے سے پہلے ہی تمام سفارتی راستے ختم کر چکا ہے۔
پاکستان نے دو طرفہ چینلز کے ساتھ ساتھ دوست ممالک کے ذریعے ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کو پناہ دینے والی طالبان حکومت پر تحفظات کا اظہار کیا ۔
تاہم ذرائع نے بتایا کہ چینی ایلچی اور پاکستانی حکام کے درمیان ملاقاتوں کے نتیجے میں اسلام آباد اس نتیجے پر پہنچا کہ طالبان قیادت نے اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کی ۔
باخبرذرائع نے بتایا کہ طالبان حکام نے چینی سفیر کے سامنے اپنا دیرینہ مؤقف کو دہرایا کہ ٹی ٹی پی کا مسئلہ پاکستان کا اندرونی ایشو ہے، افغان سرزمین ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی تاہم پاکستانی حکام نے طالبان حکومت کے اس دعوے کو مسترد کر دیاجس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹس کو بھی بطور ثبوت شامل کیاگیا تھا۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی دہشت گردوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کے حوالے سے اسلام آباد کے موقف کی تصدیق ہوتی ہے۔
ان حالات میں پاکستان نے چین کو آگاہ کیا کہ جب تک کابل اسلام آباد کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کرتا، بامعنی سفارتی کوششوں کی بہت کم گنجائش ہے۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ میں دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے تصدیق کی کہ کچھ دوست ممالک کی جانب سے طالبان حکام کے ساتھ بات چیت کے مطالبات کے باوجود پاکستان افغانستان کے حوالے سے اپنی موجودہ پالیسی کو برقرار رکھے گا۔
ان کا کہناتھا کہ جہاں تک افغانستان کی صورتحال کا تعلق ہے، صورت حال جوں کی توں ہے۔ ثالثی کی کوششوں کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے افغانستان اور اپنے مذاکرات کاروں پر زور دیا ہے کہ ہمیں افغانستان کی جانب سے قابل تصدیق یقین دہانی کی ضرورت ہے کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی چونکہ یقین دہانیاں نہیں کرائی گئیں اس لیے افغانستان کے حوالے سے موجودہ پالیسی کو جاری رکھا جائیگا۔
اس بات کا امکان ہے کہ جب کہ پاکستان اپنے موقف پر قائم ہے، عید کے دوران دشمنی میں عارضی وقفہ کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
دریں اثنا ترجمان طاہراندرابی کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور ان کی معاونت کرنے والے مراکز پرپاکستان کی جائز کارروائیوں کے بارے بھارتی موقف مضحکہ خیز ہے۔
افغانستان کے اندر دہشتگردوں کے ٹھکانوں کیخلاف اہداف جائز ہیں،افغان سر زمین سے فتنہ الخوارج اورفتنہ الہندوستان پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کر رہے ہیں، بھارت افغانستان سمیت خطے میں تخریبی کردار ادا کر رہا ہے۔
بھارت پاکستان کیخلاف دہشتگردی کرنے سے باز آ جائے، ہندوتوا کی انتہا پسندانہ سوچ کے زیر اثر بھارت اپنے ملک میں اقلیتوں کو منظم انداز میں انکے حقوق سے محروم کر رہا ہے، اسلاموفوبیا کو فروغ دے رہا ہے۔
بھارت اقوام متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر پر غیرقانونی قبضہ جمائے ہوئے ہے اور اس علاقے میں ریاستی دہشت گردی کا مرتکب رہا ہے۔