چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ عالمی منڈیوں میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث پولیسٹر فائبر کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی سے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران پاکستان میں بھی پولیسٹر فائبر کی فی کلو قیمت میں 30روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے سوتی دھاگے کی قیمت میں تیزی کے باعث روئی کی قیمتوں میں بھی تیزی کا رحجان سامنے آیا ہے۔
مقامی ٹیکسٹائل ملز ملیں رواں سال موسم گرما کے ملبوسات کی تیاری کے لئے گذشتہ سالوں کی نسبت معیاری روئی کی خریداری میں زیادہ دلچسپی لے رہی ہیں جسے ابتدائی طور پر اگرچہ درآمدی روئی سے پورا کیا جارہا تھا لیکن جاری عالمی جنگی حالات کے باعث درآمدی روئی کی شپمنٹس معطل ہونے سے ٹیکسٹائل ملوں نے مقامی کاٹن مارکیٹس سے روئی کی خریداری شروع کردی ہے۔
مقامی مارکیٹوں میں معیاری روئی کی انتہائی محمدود دستیابی کے باعث روئی کی قیمت میں 500روپے فی من اضافہ دیکھا جارہا ہے جس میں رواں ہفتے مزید تیزی متوقع ہے اگر قیمتوں میں اضافے کا تسلسل برقرار رہا تو عید الفطر کے بعد تک فی من روئی کی قیمت 18ہزار روپے کی سطح عبور کرسکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نان فرینڈلی صنعتی پالیسیوں کے باعث پاکستان سے ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں تسلسل سے کمی برقرار ہے اور توانائی کی قیمتوں میں جاری اضافے کے رحجان سے ملکی برآمدات میں مزید کمی کے خدشات پائے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فیڈرل کمیٹی آن ایگریکلچر (ایف سی اے) ہرسال پاکستان میں کپاس کی کاشت اور پیداواری ہدف جاری کرتی ہے لیکن یہ ہدف بالعموم زمینی حقائق کے برعکس ہوتے ہیں۔
ایف سی اے گذشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں کپاس کا پیداواری ہدف ایک کروڑ گانٹھوں سے زائد کا اجراء کرتی ہے لیکن گذشتہ 10 سال مجوزہ اہداف حاصل نہیں ہوسکے ہیں۔
ان عوامل کے سبب روئی کی کھپت یا استعمال کرنے والی صنعتوں کو اپنی پیداواری حکمت مرتب کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں ایف سی اے کا اجلاس منعقد ہورہا ہے جس میں درست اور حقائق پر مبنی اہداف کا تعین وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ اس قومی ادارے پر اسٹیک ہولڈرز کا اعتماد بحال ہوسکے۔
انہوں نے بتایا کہ 12دسمبر 2025 سے کراچی کاٹن ایسوسی ایشن (کے سی اے) کی عمارت سربمہر ہونے کے بعد سے تاحال بحال نہ ہونے سے روئی کی اسپاٹ قیمت بھی معطل ہے جس کے باعث عالمی مارکیٹوں میں پاکستانی کاٹن کی نمائندگی نہیں ہو رہی جو ملکی تاریخ میں ایک منفرد واقع ہے جس سے کاٹن ٹریڈنگ سیکٹر میں اضطراب کی لہر برقرار ہے۔