دماغی کثرت استعمال والوں نے دماغی عدم استعمال والوں کو حسب معمول نعروں، ترانوں، نغموں کی بانسری پر نچانا شروع کیا۔آخر کار میری دھرتی سونا اگلے، اگلے ہیرے موتی۔ہم آزاد ہوگئے لٹیرے چلے گئے۔اور’’گا۔گے۔گی‘‘ کا سلسلہ شروع ہوگیا جو ابھی تک چل رہا ہے لیکن آج تک نہ ان ہیرے موتیوں کا پتہ چلا نہ سونا چاندی کا۔اور نہ ان خزانوں کا جو لٹیرے لے جارہے تھے اور بچالیے گئے۔ وہ ایک نجومی نے تو سائل سے کہا تھا کہ چالیس سال میں تیرے دن پھر جائیں گے یہاں ستتر سال ہوگئے۔اور وہی بیانات ویسے ہی جلوہ گرہورہے ہیں۔ان سیاسی عاملوں کاملوں کی تیسری پیڑھی بھی آگئی۔کتنے چہرے بدل گئے، پلوں کے نیچے سے کتنا پانی اور اوپر کتنے ٹیکس؟ لیکن پانی تو گزر گیا ہے ٹیکس گزرنے کی بجائے بدستور موجود ہیں بلکہ مسلسل سیلاب کی طرح بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ چڑھتے چلے جارہے ہیں۔نئے نئے عامل کامل آتے ہیں بھانت بھانت کے بابا جلوہ گرہوتے ہیں طرح طرح کے دم چف اخباروں میں۔’’بہائے‘‘ جاتے ہیں لیکن کچھ ہوا؟۔ہاں ہوا۔ پہلے کفن کش صرف کفن چراتا تھا۔اس کا بیٹا لاش کی بے حرمتی کرتا تھا اب پوتا اس لاش کو بھی بیچ رہا ہے بلکہ بیچ چکا ہے ؎
نشمین ہی کا غم ہوتا تو کیا غم تھا
یہاں تو بیچنے والوں نے گلشن بیچ ڈالا ہے
آج تک نہ اس دولت کا پتہ چلا جو وہ لٹیرے انگریز لوٹ کر لے جارہے تھے، نہ اس سونے اور ہیرے موتیوں کا جو یہ دھرتی اگلتی تھی، معلوم نہیں آسمان کھاگیا یا زمین کھاگئی
بدلتا ہے رنگ یہ جہان کیسے کیسے
زمیں کھاگئی آسمان کیسے کیسے
اور آتے رہیں بیان کیسے کیسے؟بولتے رہے کوے کاں کیسے کیسے۔دکاں کیسے کیسے،ڈاکوان کیسے کیسے، نوسربازاں کیسے کیسے؟قائدکیسے کیسے ، مرد حق کیسے کیسے۔معین قریشی کیسے کیسے، شوکت عزیز کیسے کیسے،چاروں صوبوں کی زنجیر کیسے کیسے، سب پر بھاری کیسے کیسے، بانی کیسے کیسے،وژن کیسے کیسے۔اور اب کیسے کیسے
جو قسمت تھی وہ قسمت دیکھ لی میں نے
قیامت سے بہت پہلے قیامت دیکھ لی میں نے
عامل کامل اور کیسے ہوتے ہیں بابا بنگالی پرتگالی اور کیسے ہوتے ہیں۔دھوکے اور نوسربازیاں اور کیا ہوتی ہیں بلکہ ہمیں تو شرما آتی ہے ان بے شرموں کی بے شرمیاں دیکھ کر اور سن کر۔ ہمارے ایک شاعر دوست تھے ایک دن ہم نے اس سے کہا چلو فلاں سے ملتے ہیں۔اس نے کہا، یار مجھے تو اسے دیکھ دیکھ کر اور باتیں سن سن کر شرم سی محسوس ہونے لگتی ہے۔ دراصل جس سے ملنے کا ہم نے کہا تھا وہ ایک الگ ٹائپ کا آدمی تھا پورا مرد تھا لیکن حرکات و سکنات باتیں ساری خواتین کی طرح کرتا تھا، لہک لہک کر ہاتھ بجابجاکر لہرا لہرا کر۔ دہرا ہوکر۔ایسا کہ دیکھنے اور سننے والے کو شرم محسوس ہوتی تھی۔بخدا ہمیں بھی آج کل اخباروں میں ان عاملوں کاملوں، نجومیوں، پروفیسروں کے بیانات پر شرم سی محسوس ہوتی ہے، ایسا لگتا ہے جسے بیانات نہیں دے رہے ہوں گویا لہری، ننھا، منورظریف، رنگیلے کوئی ایکٹ پیش کررہے ہیں۔
کتنی صدیاں بیت گئیں، کتنے ہزارے گزر گئے لیکن وہ ’’دن‘‘ وہ’’کل‘‘ جو نجانے کہاں سے آنے والا تھا نہیں پہنچا۔جس کی خوش خبریاں تھیں، ہیں اور رہیں گی، وہ دن جس کا وعدہ ہے جو لوح ازل پہ لکھا ہے،جب ظلم وستم کے کوہ گراں روئی کی طرح اڑجائیں گے،جب ارض خدا کے کعبے سے سب بُت اٹھوائے جائیں گے۔جب اہل حکم کے سروں پر یہ بجلی کھڑکھڑکے گی، ہم محکموں کے پاؤں تلے یہ دھرتی دھڑدھڑکے گی۔ہونہہ بکواس ۔اس میں یہ’’کل‘‘ کا دھوکے باز لفظ ہے کیونکہ جسے ہم آج۔کل سمجھ رہے ہیں وہ جب آتا ہے تو’’کل‘‘ کا نقاب اُلٹ کر آج ہوچکی ہوتی ہے اور وعدہ تو’’کل‘‘ کا ہے اب یہ کمال کون دکھائے کہ کل میں آج اور آج میں کل کو پکڑلے، وہ کم بخت’’کل‘‘ تو ’’آج‘‘ سے یوں نکل جاتا ہے جیسے پھول سے خوشبو نکل جاتی ہے۔
میں گراہوں تو اسی خاک میں ملنا ہے مجھے
وہ تو خوشبو ہے اسے اپنے نگر جانا ہے
وہ ایک لوہار کا لطیفہ تو آپ کو یاد ہوگا۔جس کے بیٹے نے ایک شخص کو جو لوہے کا ایک ٹکڑا اس کے پاس لایا تھا دارنتی بنانے کے لیے۔اور پوچھا کہ کب بن جائے گی لوہار کا بیٹا اس وقت کجھور کھارہا تھا۔اس نے کجھور کی گٹھلی ایک طرف پھینکتے ہوئے کہا جب یہ گٹھلی پھوٹ جائے گی پھر درخت بن کر پھل دینے لگے گی تب ، وہ شخص وعدہ لے کر چلا گیا۔لڑکے کا باپ آگیا تو اس نے باپ کو ماجرا سنایا کہ میں نے اس طرح اس شخص کو کھجور کو اگنے اور پھل دینے کا وعدہ دیا ہے تو باپ نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا۔بیوقوف گٹھلی تو کل اُگے گی پھر درخت بننے میں بھی زیادہ دیر نہیں لگے گی اور پھل دار بہت جلد ہوجائے گی اسے ’’کل‘‘ کا وعدہ دیا ہوتا کہ کل نہ کبھی ہے، نہ آئی ہے اور نہ کبھی آئے گی۔
یہ کل کے وعدے’’آج‘‘ کو کھانے کا سلسلہ بہت پرانا ہے یہ اس وقت سے شروع ہوا ہے جب پینڈورا کا بکس کھلا تھا۔ اور اس میں سے دنیا بھر کی آفات، غم، رنج دکھ اور سیاسی لیڈر وزیر مشیر اور معاو ن نکل کر عوام کو چمٹ گئے تھے اور وہ جو سب سے آخر میں ’’امید‘‘ کی بڑھیا لاٹھی ٹیکتے ہوئے گرتی پڑتی نکلی تھی، وہ تو بڈھی بھی تھی لنگڑی بھی شاید اسے دمہ بھی ہو اور گھٹنوں کا عارضہ بھی، چنانچہ جب وہ ہم تک پہنچے گی یہ آفات ہمارا تیا پانچا کرچکے ہوں گی ۔ہمارا ان’’کل‘‘ بیچنے والوں سے التجا ہے کہ بس بہت ہمارا’’آج‘‘ ہڑپ چکے ہو اب مہربانی کرکے اپنا’’کل‘‘ اپنے پاس رکھو اور ہمارا’’آج‘‘ ہمیں دے دو۔