کابل اور ننگرہار میں عسکری تنصیبات اور دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، وزارت اطلاعات

0 minutes, 0 seconds Read
وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان حکومت کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل اور ننگرہار میں عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

وزارت اطلاعات و نشریات نے طالبان حکومت کے نام نہاد ترجمان کے دعوے پر ردعمل دیتے ہوئے اس کو حقائق کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے پروپیگنڈے کا مقصد رائے عامہ کو گمراہ کرنا ہے۔

وزارت اطلاعات نے افغانستان میں مبینہ شہری ہلاکتوں سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ 16 مارچ کی شب پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں عسکری تنصیبات اور دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔

وزارت اطلاعات کے مطابق 16 مارچ کو کارروائی انتہائی احتیاط اور درستگی کے ساتھ کی گئی تاکہ کسی قسم کا غیر ضروری نقصان نہ ہو، ان مقامات کو نشانہ بنایا جنہیں فتنہ الخوارج’ اور افغان طالبان کے حامی عناصر پاکستان میں دہشت گردی کیلئے استعمال کر رہے تھے۔

وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ اسلحہ اور بارودی مواد کے ذخیرے پر حملے میں زوردار دھماکے ہوئے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کوئی عام مقام نہیں تھا،  حملوں کو ‘منشیات کی بحالی کے مراکز’ قرار دے کر عوام میں غلط فہمیاں پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وزارت اطلاعات نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ علاقائی امن اور سلامتی کو ترجیح دی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دی ہیں، پاکستان چاہتا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان مخالف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے۔

Similar Posts