ایکسپریس نیوز کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث کمرشل پروازوں کے ایندھن جیٹ اے ون میں 154روپے لیٹراورتربیتی جہازوں کےایندھن ایوی ایشن گیسولین میں فی لیٹر80 روپے اضافے کی وجہ سےائیرٹکٹس مہنگے ہونےکےعلاوہ پائلٹس بننےکا خواب دیکھنے والے نوجوانوں کی مشکلات بڑھ گئیں کیونکہ فلائنگ ٹریننگ کےاخراجات میں 10 لاکھ روپےاضافہ ہوگیا۔
اسکائی ونگز کے چیئرمین عمران خان کے مطابق تربیتی پروازوں کا ایندھن ایوی ایشن گیسولین کے ذخائرصرف ایک ماہ کے رہ گئے اگر معاملےنےطول پکڑا تو چھوٹے طیاروں کی اڑانیں رک سکتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق مشرق وسطی میں جنگی صورتحال کی وجہ سے گزشتہ 17روزکے دوران کراچی سمیت مختلف ملکی ہوائی اڈوں سے خلیجی ریاستوں وممالک کے لیے 1600 سے زائد پروازیں منسوخ ہوچکی ہیں۔
اب زیادہ گھمبیر صورت حال کمرشل پروازوں میں استعمال ہونےوالے جیٹ اے ون فیول کی فی لیٹرقیمت میں154 روپےکا اضافہ ہونے کی صورت پیدا ہوئی۔
یکدم سے 82 فیصد اضافے کی وجہ سے ملکی پروازوں کےکرایوں میں 10 تا 15 ہزارجبکہ بین الاقوامی ٹکٹس میں 30 ہزارتا ڈیڑھ لاکھ روپے کا اضافہ ہوچکا ہے۔
کراچی ائیرپورٹ سےمتصل شہری ہوا بازی کے ہینگرمیں تربیت پانےوالے پائلٹس کےلیے یہ صورتحال مسلسل پریشان کن ثابت ہورہی ہے۔
اسکائی ونگزایوی ایشن کےسی ای اوعمران اسلم خان نے ایکسپریس نیوزسے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ راتوں رات ہوا بازی کی صنعت میں استعمال ہونے والےمختلف ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پہلےکےمقابلے میں بہت کچھ یکسرتبدیل ہوچکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ڈومیسٹیک اورانٹرنیشنل روٹس کے ائیرٹکٹس میں اضافے کےعلاوہ تربیت پانےوالے پائلٹس پربھی بہت بڑافرق پڑا، ان کےتیکنیکی مراحل کےاجراجات میں 10 لاکھ روپے کا اضافہ ہوگیاہے۔
عمران اسلم کے مطابق اگر یہ سلسلہ طول پکڑتا ہے تو یہ فلائنگ ٹریننگ کےاخراجات 20 تا 30 لاکھ روپے تک تجاوزکرسکتے ہیں۔
اُن کے مطابق عام کمرشل جہازوں کے برعکس چھوٹے ساخت کے تربیتی جہازوں میں ایوی ایشن، گیسولین ایندھن استعمال ہوتا ہے، جس کی دنیا بھرمیں صرف پانچ مقامات پر پیداوار ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اے وی گیس کو ان مقامات سے16 ہزار اور24 ہزارلیٹرکے علاوہ 200 لیٹرز کے ڈرم میں درآمد کیا جاتا ہے، یہ ایک بالکل ہی الگ امپورٹ ہے۔
اُن کے مطابق ایوی ایشن گیسولین کی فی لیٹرقیمت 80روپے اضافےسے670 روپے فی لیٹرہوچکی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایندھن کے ذخائرصرف ایک ماہ کے رہ گئے ہیں جبکہ یہ خدشہ بھی برقرارہے کہ اگریہ صورتحال طول پکڑتی ہے تو تربیتی جہازوں کی اڑان مکمل طورپررک سکتی ہے۔