سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹویٹر) پر پوسٹ میں انہوں ںے لکھا کہ پاکستان کی طرف سے افغانستان کے اسپتال پر حملے کا دعویٰ ان کی طرف سے آرہا ہے جو مسجدوں پہ حملے کرواتے ہیں، سر بسجود نمازیوں کو شہید کرتے ہیں نہتے شہریوں، بازاروں اور اسکولوں کو نشانہ بناتے ہیں، معصوم بچوں کو خون میں نہلاتے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ جن کا ذریعہ آمدنی ہو، محسن کش لوگ اس ریاست پر حملہ آور ہیں جس نے 50 سال سے انہیں پناہ دی، جو کمٹمنٹ کرتے ہیں اس کے آنر نہیں کرتے، اربوں روپے کمٹمنٹ پوری کرنے کے لیے تاوان مانگتے ہیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مٹی نے نہ صرف ان کو پناہ دی ان کے لیے ایک سپر پاور سے ٹکرا گئے، تین نسلوں کی مہمان نوازی کی، ہم نے اپنی 78 سالہ تاریخ میں بہت غلطیاں کیں لیکن ان کی مہمان نوازی سب سے فاش غلطی ہے، اللہ ہمیں معاف کرے۔