حکمت اور دانائی

0 minutes, 0 seconds Read
بلاشبہ حکمت اور دانائی کسی انسان سے نہیں قرآن سے ملتی ہے۔ خالق نے کتابِ حق کو سراسر ہدایت اور حکمت قرار دیا ہے۔ میرے سامنے سورہ آلِ عمران کی آیات ہیں جس میں فرمایا گیا ہے ’’درحقیقت اہلِ ایمان پر اﷲ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود انھی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایا ہے جو اس کی آیات انہیں سناتا ہے، ان کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت ودانائی کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے‘‘۔

دورِ حاضر کی سامراجی طاقتوں کے سامنے جس طرح ایران کے راہبر سیّد علی خامینائی اور ان کے ساتھی سینہ تان کر کھڑے رہے اور دنیا کی سپر پاور کے مہلک ترین بموں اور میزائلوں کے خوف سے ان کے پائے استقامت میں ذرا سی بھی لرزش پیدا نہ ہوئی۔ 

لگتا ہے سورہ آل عمران کی آیات خالق نے اپنے ایسے ہی جانثار مجاہدوں کے بارے میں اتاری ہیں۔ فرمایا ’’اور وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں، ان سے ڈرو، تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور انھوں نے جواب دیا کہ ہمارے لیے اﷲ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے۔‘‘

پھر آگے چل کر فرمایا، ’’(اے پیغمبر) جو لوگ آج کفر کی راہ میں بڑی دوڑ دھوپ کر رہے ہیں، ان کی سرگرمیاں تمہیں آزردہ نہ کریں، یہ اﷲ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے۔۔۔۔ جو لوگ ایمان کو چھوڑ کر کفر کے خریدار بنے ہیں، وہ یقیناً اﷲ کا کوئی نقصان نہیں کررہے، ان کے لیے درد ناک عذاب تیار ہے۔

یہ ڈھیل جو ہم انہیں دیئے جاتے ہیں، اس کو یہ کافر اپنے حق میں بہتری نہ سمجھیں، ہم تو انہیں اس لیے ڈھیل دے رہے ہیں کہ یہ خوب بارِ گناہ سمیٹ لیں، پھر ان کے لیے سخت ذلیل کرنے والی سزا ہے۔‘‘

کتابِ حکمت نے دنیا کی دلکش زندگی کو متاعُ الغرور (ظاہر فریب چیز) قرار دیا ہے۔ فرمایا ’’اے محمدؐ! اگر یہ لوگ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو بہت سے رسول تم سے پہلے بھی جھٹلائے جاچکے ہیں جو کھلی کھلی نشانیاں اور صحیفے اور روشنی بخشنے والی کتابیں لائے تھے۔

آخر کار ہر شخص کو مرنا ہے اور تم سب اپنے اپنے پورے اجر قیامت کے روز پانے والے ہو۔ کامیاب دراصل وہ ہے جو وہاں آتشِ دوزخ سے بچ جائے اور جنّت میں داخل کردیا جائے۔ رہی یہ دنیا، تو یہ محض ایک ظاہر فریب چیز ہے۔‘‘

مفسّرین ان آیات کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس دنیا کی زندگی میں جو نتائج رونما ہوتے ہیں، انھی کو اگر کوئی شخص اصلی اور آخری نتائج سمجھ بیٹھے اور انھی پر حق اور باطل اور نفع اور نقصان کے فیصلے کا مدار رکھے تو وہ سخت دھوکے میں مبتلا ہوجائے گا۔

دنیا میں کسی کو دولت، عزت اور شہرت کی صورت میں نعمتیں ملنا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ وہی حق پر بھی ہے اور اسی کو خالقِ کائنات کا قرب حاصل ہے اور ربِّ کائنات اس سے راضی ہے۔

اسی طرح یہاں کسی کا مصائب و مشکلات میں مبتلا ہونا بھی لازمی طور پر یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ باطل پر ہے اور خالق ومالکِ کائنات اسے ناپسند کرتے ہیں یا اس سے ناراض ہیں۔ کسی کے دنیاوی حالات سے نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔

اصل نتائج وہی ہوں گے جو حیاتِ ابدی کے مرحلے میں پیش آنے والے ہیں’’ کتابِ حکمت کے مصنّف نے انسانوں کو بار بار کہا ہے کہ تمہیں عقل اور شعور اسی لیے دیا گیا ہے کہ اسے استعمال کرو اور اپنے آس پاس پھیلی ہوئی خالقِ کائنات کی حیرت انگیز تخلیقات پر غور کرو تاکہ تم اﷲ کو پہچان سکو۔‘‘

اسی سورہ میں فرمایا گیا ہے ’’ زمین اور آسمان کی پیدائش میں اور رات اور دن کے بارے میں آنے میں ان ہوش مند لوگوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں جو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے، ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان وزمین کی ساخت میں غور وفکر کرتے ہیں۔

انہیں دیکھ کر وہ بے اختیار بول اٹھتے ہیں ’’پروردگار! یہ سب کچھ تو نے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا‘‘ یعنی جب وہ نطامِ کائنات کا بغور مشاہدہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت ان پر عیاں ہوجاتی ہے کہ یہ سراسر ایک حکیمانہ نظام ہے اور یہ بات سراسر حکمت کے خلاف ہے کہ جس مخلوق میں اﷲ نے اخلاقی حِس پیدا کی ہو، جسے تصوّف کے اختیارات دیئے ہوں، جسے عقل وتمیز عطا کی ہو، اس سے اس کی دنیاوی زندگی کے اعمال اور افعال کا حساب نہ لیا جائے اور بازپرس نہ کی جائے۔

عدل اور انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ہر انسان کو اس کے اچھے کام کی جزا اور برے کام کی سزا ضرور ملے۔ دنیا میں تو ایسا ممکن نہیں ہے، نہ ہی یہاں مکمّل انصاف کرنا کسی بڑے سے بڑے شہنشاہ کے بس میں ہے۔

فرض کریں کہ دنیا میں ایک شخص نے سو آدمیوں کو ہلاک کردیا ہے اور ایک دوسرے شخص نے جان پر کھیل کر کسی ٹرین کو حادثے سے بچالیا ہے اور سیکڑوں انسانوں کی جانیں بچالی ہیں، کیا دنیا میں ان دونوں کو عدل کے مطابق سزا اور جزا دی جاسکتی ہے۔

نہیں ایسا ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا پوری انسانیت اس بات کا تقاضا کرتی ہے اور ربِّ کائنات کی شانِ عدل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ کوئی ایسی عدالت لگے، کوئی ایسا دن آئے کہ جب ہر ظالم کو اس کے کیے کی سزا ملے اور ہر متقی اور پاکیزہ کردار انسان کو اس کی نیکیوں کے مطابق جزا ملے۔

اسی تقاضے کا جواب ہے روزِ محشر یا روزِ حساب۔ جب ربِّ ذوالجلال کی عدالت لگے گی اور اب تک پیدا ہونے والے تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ کرکے حاضر کیا جائے گا اور ان کے اعمال کے مطابق جزا اور سزا دے دی جائے گی اور سزا بھی ایسی ہوگی جس کے احوال سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

تاریخ میں جھوٹے نبی اور خدائی کا دعویٰ کرنے والے بھی گزرے ہیں مگر کبھی کوئی بڑے سے بڑا متکّبر شہنشاہ اور خدائی کا دعویٰ کرنے والا طاقتور حکمران بھی یہ دعویٰ کرنے کی جرات نہیں کرسکا کہ ’’میں تمام مردہ انسانوں کو ایک روز زندہ کروں گا، ان سب کا حساب ہوگا اور انہیں ان کے اعمال کے مطابق سزا اور جزا دی جائے گی‘‘۔ یہ دعویٰ صرف سچّے خدا نے ہی کیا ہے، اور یہ دعویٰ بھی اس کے سچّا ہونے کی بہت بڑی دلیل ہے۔

پھر اللہ کی نشانیوں پر غور وفکر کرنے والوں کے بارے میں فرمایا گیا ’’وہ بول اٹھتے ہیں کہ کوئی بے مقصد کام کرے۔ پس اے رب ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے، تو نے جسے دوزخ میں ڈال دیا، اسے درحقیقت بڑی ذلّت اور رسوائی میں ڈال دیا۔

پس اے ہمارے آقا! جو قصور ہم سے ہوئے ہیں، ان سے درگذر فرما، جو برائیاں ہم میں ہیں، انہیں دور کردے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر۔ یاالہٰی جو وعدے تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے کیے ہیں، ان کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کے دن ہمیں رسوائی میں نہ ڈال۔

بیشک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے۔ جواب میں ان کے رب نے فرمایا ’’میں تم میں سے کسی کا عمل ضایع کرنے والا نہیں ہوں، خواہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو‘‘۔

آگے چل کر فرمایا ’’اے نبیؐ دنیا کے ملکوں میں خدا کے نافرمان لوگوں کی چلت پھرت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے، یہ محض چند روزہ زندگی کا تھوڑا سا لطف ہے۔ پھر یہ سب جہنّم میں ڈالے جائیں گے جو بدترین جائے قرار ہے‘‘۔

اِس وقت مختلف بلاکوں میں بٹے ہوئے اور مسلمانوں کے مشترکہ دشمن کے ہاتھوں استعمال ہونے والے مسلم حکمرانوں کو راہِ راست پر لانے اور اتفاق اور اتحاد قائم کرنے کے لیے ان آیاتِ الہٰی سے بڑھ کر اور کیا چیز relevant ہوسکتی ہے۔ خالقِ کائنات سورہ آلِ عمران میں ہی فرماتے ہیں،

’’اور سب مل کر اللہ کی (ہدایت کی) رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہنا اور فرقے فرقے نہ ہوجانا اور اپنے اوپر اللہ کی اس مہربانی کو یاد رکھنا جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو اس نے تم کو بچالیا، اس طرح اللہ نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے تاکہ تم راہِ راست پر رہو‘‘۔

شاعرِ مشرق یاد آتے ہیں جو آخر دم تک مسلمانوں کو یہی تلقین کرتے رہے کہ

بتانِ رنگ وبو کو توڑ کر ملّت میں گم ہوجا

نہ تو رانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانی

اور

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر

اگلی نشست میں حکمت اور دانائی کی کچھ مزید باتیں شیئر کی جائیں گی۔

Similar Posts