علی لاریجانی صرف ایک سیاست دان نہیں بلکہ ایران کی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے اہم معمار سمجھے جاتے تھے، جن کی رائے کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی تھی۔
ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ شہید علی لاریجانی ایک بے خوف، نڈر اور جرات مند رہنما کے طور پر پہچانے جاتے تھے، جو امریکا اور اسرائیل کے خلاف کھل کر مؤقف اختیار کرتے رہے۔ وہ عراق کے مقدس شہر نجف میں پیدا ہوئے اور ابتدائی زندگی سے ہی علمی و فکری میدان میں نمایاں رہے۔
عرب میڈیا کے مطابق گذشتہ رات علی لاریجانی کو ان کے سیف ہاؤس پر حملہ کر کے شہید کیا گیا۔ ایران نے سیکیورٹی چیف کی شہادت کی تصدیق کی تھی، ان کے ایکس اکاؤنٹ میں ایک پوسٹ پر لکھا گیا کہ خدا کا بندہ خدا سے جا ملا۔
علی لاریجانی نے ریاضی اور کمپیوٹر سائنس میں تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں تہران یونیورسٹی سے فلسفے میں اعلیٰ ڈگری حاصل کی۔ جرمن فلسفی عمانویل کانٹ کے نظریات پر ان کی گہری نظر تھی اور وہ اس موضوع پر مضامین بھی لکھتے رہے۔

انہوں نے پاسداران انقلاب میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد ایرانی سیاست میں تیزی سے مقام بنایا اور داخلی سیاست، پارلیمنٹ اور خارجہ پالیسی میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ ایران کے طاقتور مذہبی و سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور ملک کی بااثر شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔
علی لاریجانی طویل عرصے تک مختلف اہم سرکاری عہدوں پر فائز رہے۔ انہیں ایسا رہنما کہا جاتا تھا جس نے صدر کے عہدے کے علاوہ تقریباً ہر اہم منصب پر خدمات انجام دیں۔ وہ ایران عراق جنگ کے دوران بھی اہم ذمہ داریاں نبھا چکے تھے اور بعد میں سلامتی پالیسی کے معمار کے طور پر ابھرے۔
انہوں نے بارہ برس تک مجلس شورٰی کی قیادت کی اور ایران کے جوہری پروگرام کے لیے چیف مذاکرات کار کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ ان کے دور میں ہونے والے عالمی معاہدوں کو اہم پیش رفت قرار دیا جاتا ہے۔ 2008 سے 2020 تک ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر بھی رہے۔
اگست دو ہزار پچیس سے وہ قومی سلامتی کونسل کے سربراہ تھے، جب کہ اس سے قبل بھی وہ اس عہدے پر خدمات انجام دے چکے تھے۔ اس کے علاوہ وہ وزیر ثقافت کے منصب پر بھی فائز رہے اور مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

علی لاریجانی کو ایک قدامت پسند مگر نسبتاً معتدل سوچ رکھنے والی شخصیت سمجھا جاتا تھا۔ وہ خطے کے مسائل پر واضح اور دو ٹوک مؤقف رکھتے تھے اور مسلم ممالک کو امریکا پر انحصار سے خبردار کرتے رہے۔
ان کی زندگی کو خطرات لاحق تھے اور ان کے سر کی قیمت بھی مقرر کی گئی تھی، تاہم اس کے باوجود وہ عوامی اجتماعات میں شریک ہوتے رہے۔ انہوں نے ایک موقع پر امام حسین کا قول شیئر کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ موت کو عزت اور ظالموں کے ساتھ زندگی کو ذلت سمجھتے ہیں۔

حالیہ بیانات میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران طویل جنگ کے لیے تیار ہے اور خطے کے ممالک کو اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ ان کی شخصیت اور خدمات کو ایران کی سیاسی و سلامتی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔