اسرائیلی حملے میں ایرانی انٹیلی جنس کے وزیر اسماعیل خطیب کی شہادت کی تصدیق

0 minutes, 0 seconds Read

ایرانی میڈیا نے گزشتہ روز ہونے والے اسرائیلی حملوں میں انٹیلی جنس کے وزیر اسماعیل خطیب کے شہید ہونے کی تصدیق کی ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی اسرائیلی حملے میں ایران کے وزیر برائے انٹیلی جنس اسماعیل خطیب کی شہادت کی تصدیق کی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ میرے عزیز ساتھیوں اسماعیل خطیب، علی لاریجانی اور عزیز نصیرزادہ کو ان کے اہل خانہ اور ساتھیوں سمیت بزدلانہ حملے میں شہید کیے جانے پر ہم گہرے صدمے میں ہیں۔

ایرانی صدر نے کہا کہ میں کابینہ کے دو ارکان، سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری اور فوجی و بسیجی کمانڈرز کی شہادت پر ایران کے عظیم عوام سے تعزیت کرتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ ان کا راستہ پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ جاری رہے گا۔

قبل ازیں اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے وزیرِ انٹیلی جنس اسماعیل خطیب گزشتہ روز تہران پر کیے گئے حملوں میں شہید ہو گئے ہیں، اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کے مطابق اسرائیل نے ایران کے وزیرِ انٹیلی جنس اسماعیل خطیب کو نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ ایران اور حزب اللہ، دونوں محاذوں پر جنگ جاری رہے گی اور مزید ’سرپرائزز‘ دیکھنے کو ملیں گے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیرِ دفاع نے مشترکہ طور پر فوج کو اختیار دے دیا ہے کہ وہ مکمل انٹیلی جنس اور آپریشنل معلومات کی بنا پر کسی بھی اعلیٰ ایرانی عہدیدار کو نشانہ بنا سکتی ہے۔ اس کے لیے کسی منظوری کی ضرورت نہیں ہوگی۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع نے کہا کہ اسرائیلی فوج آئندہ بھی ایسے اہداف کو نشانہ بناتی رہے گی اور انہیں تلاش کرکے ختم کرنے کا عمل جاری رہے گا۔

اس سے قبل منگل کے روز اسرائیلی فضائی حملوں میں ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی اور بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی بھی شہید ہو گئے تھے۔

دوسری جانب ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے علی لاریجانی کی شہادت سے متعلق کہا کہ امریکا اور اسرائیل ابھی تک یہ نہیں سمجھ سکے کہ ایران کا نظامِ حکومت کسی ایک شخصیت پر منحصر نہیں۔

الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ رہنماؤں کی شہادت کے باوجود ایران آگے بڑھے گا۔

Similar Posts