گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ واریت کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل

0 minutes, 0 seconds Read
چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے راولپنڈی میں اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء نے ملاقات کی، جس میں قومی سلامتی اور معاشرتی ہم آہنگی میں علماء کے کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

فیلڈ مارشل نے معاشرے میں اتحاد، رواداری اور قومی یکجہتی کے فروغ میں علماء کے اہم کردار پر زور دیا اور کہا کہ گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ واریت کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء سے ملاقات کے دوران معاشرے میں اتحاد، رواداری اور قومی یکجہتی کے فروغ میں علماء کے اہم کردار پر زور دیا۔

آپریشن ’’غضب ْ للحق‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے فیلڈ مارشل نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سرزمین کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں بھی وجود ہوگا، انہیں درست اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا۔ انہوں نے افغان طالبان پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکیں۔

فیلڈ مارشل نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے فعال سفارتکاری کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علماء اتحاد کے فروغ اور انتہا پسندی کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کریں، اور مذہبی جذبات کو تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔

آرمی چیف نے کہا کہ کسی دوسرے ملک میں پیش آنے والے واقعات کی بنیاد پر پاکستان میں تشدد ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ملاقات میں شریک علماء نے امن و استحکام کے عزم کا اعادہ کیا اور مذہب کے نام پر ہونے والے تشدد کی شدید مذمت کی۔ علماء کرام نے ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی۔

Similar Posts