سورج کی روشنی بظاہر سفید دکھائی دیتی ہے لیکن حقیقت میں یہ مختلف رنگوں پر مشتمل ہوتی ہے۔آسمان پرجب کبھی قوسِ قزح نمودار ہو تو بکھرے یہ رنگ دیکھے جا سکتے ہیں ۔اسی طرح کسی کھڑکی یا سوراخ سے اندر آنے والی سورج کی روشنی کے راستے میں پرزم Prismرکھ دیا جائے تب بھی قوسِ قزح والی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ان رنگوں میں سرخ، نارنجی، پیلا، سبز،نیلا اور بنفشی شامل ہیں۔ یہ تمام رنگ مل کر سفید روشنی بناتے ہیں۔اگر آپ ان رنگوں کے پینٹ کو خوب ملائیں تب بھی سفید پینٹ بن جائے گا۔ان رنگوں میں سے ہر رنگ کی موجی لمبائیWavelengthمختلف ہوتی ہے۔سرخ رنگ کی ویو لنتھ سب سے زیادہ،جب کہ نیلے اور بنفشی رنگ کی ویو لنتھ کم ہوتی ہے۔
زمین کے گرد گیسوں کا ایک غلاف موجود ہے جسےEarth Atmosphereکہا جاتا ہے۔ اس میں بنیادی طور پر نائٹروجن،آکسیجن،گرد و غبار اور پانی کے بخارات وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ جب سورج کی روشنی اس ماحول،اس زمینی ماحول میں داخل ہوتی ہے تو یہ ان گیسوں اور ذراتDust particlesسے ٹکرا جاتی ہے۔
جب سورج کی روشنی فضا کے مالیکیولز سے ٹکراتی ہے تو مختلف رنگ مختلف مقدار میں بکھرتے ہیں۔ Rayleigh scatteringکے اصول کے مطابق کم موجی لمبائیWavelength والی روشنی زیادہ بکھرتی ہے جب کہ زیادہ موجی لمبائی والی روشنی نسبتاً کم بکھرتی ہے۔چونکہ نیلے اور بنفشی رنگ کی موجی لمبائی wavelengthکم ہوتی ہے اس لیے یہ رنگ خاص کر نیلا رنگ بہت زیادہ بکھرتا ہے۔اب سوال یہ تھا کہ
آسمان نیلا کیوں دکھائی دیتا ہے۔اگرچہ بنفشی رنگ کی موجی لمبائی سب سے کم ہے اور وہ سب سے زیادہ بکھرتا ہے لیکن آسمان بنفشی نہیں بلکہ نیلا نظر آتا ہے کیونکہ انسانی آنکھ نیلے رنگ کے لیے زیادہ حساس ہے۔بنفشی رنگ کا ایک بڑا حصہ زمین کے ماحول میں جذب ہو جاتا ہے۔سورج کی روشنی میں نیلے رنگ کی مقدار نسبتاً زیادہ محسوس ہوتی ہے،اس لیے ہر سمت نیلی روشنی دکھائی دیتی ہے اور اسی لیے آسمان دن کے وقت نیلا نظر آتا ہے۔
ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب کے وقت آسمان سرخی مائل کیوں ہوتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہصبح اور شام کے وقت سورج افق کے قریب ہوتا ہے۔اس وقت سورج کی روشنی کو زمین کے ماحول میں زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ اس دوران نیلی اور بنفشی روشنی زیادہ بکھر کرراستے سے ہٹ جاتی ہے۔سرخ اور نارنجی روشنی باقی رہ جاتی ہے۔ اس وجہ سے سورج کے طلوع اور غروب کے وقت آسمان سرخی مائل دکھائی دیتا ہے۔اگر زمین کا ماحول یعنی Earth Atmosphereنہ ہو تو آسمان نیلا نظر نہیں آئے گا بلکہ بالکل سیاہ دکھائی دے گا جیسا کہ خلا میں نظر آتا ہے۔خلا میں موجود خلا بازوں کو دن کے وقت بھی آسمان سیاہ دکھائی دیتا ہے کیونکہ وہاں روشنی کو بکھرنے کے لیے فضا موجود نہیں۔جس ستارے یا سیارے کے گرد Atmosphereنہیں ہوگی وہاں آسمان سیاہ ہو گا۔ابھی تک سائنسی معلومات کے مطابق یہ صرف ہماری زمین ہے جس کے گرد ایٹماس فیئر ہے۔یوں آسمان کا نیلا نظر آنا دراصل سورج کی روشنی کے زمین کے ماحول میں بکھرنے کا نتیجہ ہے نیلا رنگ کم موجی لمبائی رکھتا اور زیادہ بکھرتا ہے۔اس کے ساتھ انسانی آنکھ نیلے رنگ کے لیے زیادہ حساس ہے اس لیے گگن نیلا نظر آتا ہے۔
رات کے وقت آسمان ڈارک یعنی سیاہ کیوں دکھائی دیتا ہے۔اب آتے ہیں اس طرف کہ جو آسمان دن کے وقت سورج کی روشنی بکھرنے سے نیلگوں دکھائی پڑتا ہے وہ اندھیرا ہوتے ہی ڈارک یعنی سیاہ کیوں دکھائی دیتا ہے۔اس پر عمومی طور پر تو یہ کہا جائے گا کہ جب سورج غروب ہو جاتا ہے اور روشنی چلی جاتی ہے تو آسمان ڈارک ہو جاتا ہے۔بظاہر یہ بات ٹھیک لگے گی لیکن دراصل ایسا نہیں ہے۔سولھویں صدی عیسوی میں ایک برطانوی ماہرِ فلکیات ڈِگزDiggs نے اس پر بات کرنی شروع کی۔اس کے ساتھ کئی اور سائنس دانوں کے ذہن میں بھی یہ سوال ابھرا۔ 18ویں صدی عیسوی کے شروع میںایک جرمن ماہرِ فلکیات ہنرچ ولہم اولبرز نے باقاعدہ اس سوال کی تشکیل کی کہ آخر آسمان رات کو ڈارک کیوں نظر آتا ہے۔اس نے کہا کہ اگر کائنات لا محدود ہے اور آسمان ستاروں سے پٹا پڑا ہے تو پھر ہم جس طرف بھی نگاہ اٹھائیں گے ہماری نظر کسی نہ کسی ستارے پر جا رکنی چاہیے۔ستارے چونکہ جلتے ہوئے روشنی پیدا کر رہے ہوتے ہیں اس لیے اتنے بے شمار ستاروں سے مزین آسمان روشنی سے جگمگانہ چاہیے لیکن چونکہ ایسا نہیں ہے اس لیے لا محالہ ماننا پڑے گا کہ کائنات لا محدود نہیں ہے اور ستاروں کا پھیلاؤ ہر جگہ ایک جیسا نہیں۔آسمان کیوں ڈارک نظر آتا ہے اس مسئلے کو اولبرز کے حوالے سے اولبرز پیرا ڈاکسOlbers Paradoxکہتے ہیں۔
اس مسئلے پر مختلف سائنس دانوں نے غور کیا۔ان میں کیپلر اور اینڈمنڈ ہیلی شامل ہیں۔آخرکار اس کے حل کے سلسلے میں دو ٹھوس رائے سامنے آئیں۔ سب سے پہلے تو کائنات کی محدود عمر سامنے آتی ہے۔سب جانتے ہیں کہ آسٹرو فزکس کے ماہرین کے اندازے کے مطابق کائنات ہمیشہ سے نہیں تھی۔یہ 13.8ارب سال پہلے وجود میں آئی۔اس کا مطلب ہے کہ دور دراز ستاروںکی روشنی ابھی تک ہماری زمین تک نہیں پہنچی۔کائنات محدود ہے یا لا محدود لیکن روشنی کی رفتار ضرور محدود ہے۔روشنی کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے لیکن اس کو وسیع وعریض کائنات میں سفر کرتے ہوئے بہت وقت لگتا ہے ۔چونکہ بے شمار ستاروں کی روشنی ابھی تک ہم تک نہیں پہنچی اس لیے آسمان مکمل روشن نہیں۔دوسری وجہ کائنات کا مسلسل پھیلاؤ ہے۔مشہور فلکیاتی دور بین ہبل ٹیلی اسکوپ کے موجد Edwin Hubble نے 1929میں دریافت کیا کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے۔اگر قرآن کی آیات پر غور و فکر کیا جاتا تو ہبل کے بجائے دنیا کو یہ بات مسلمان بتاتے کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے یہی کچھ قرآن میں لکھا ملتا ہے۔کائنات کے پھیلاؤ کی وجہ سے کہکشائیں اور ستارے دور ہی دور ہو رہے ہیں۔ایک خاص دوری پر پہنچ کر ان سے پھوٹنے والی روشنی سرخ ہو جاتی ہے۔اس Redshiftکو عام آنکھ نہیں دیکھ سکتی بلکہ اسے دیکھنے کے لیے انفرا ریڈ دوربین کی ضرورت ہوتی ہے۔مسلسل پھیلتی کائنات میں ستاروں کی بے انتہا دوری اور عام آنکھ سے دکھائی نہ دینے کی وجہ سے بھی آسمان ڈارک دکھائی دیتا ہے۔