قطر کی گیس تنصیبات پر حملے کے بعد عالمی سطح پر قیمتیں بڑھنے کا خدشہ

0 minutes, 0 seconds Read

ماہرِ توانائی امور کے مطابق قطر کی بڑی گیس تنصیب راس لفان کو پہنچنے والا نقصان عالمی گیس مارکیٹ کو برسوں پیچھے دھکیل سکتا ہے۔ مرمت میں مہینوں یا حتیٰ کہ سال لگنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جب کہ قطر انرجی کے سربراہ سعد الکعبی کے مطابق مرمت اور بحالی میں تین سے پانچ سال لگ سکتے ہیں۔

قطر کے خبر رساں ادارے الجزیرہ کے توانائی امور کی ماہر این سوفی کوربو نے خبردار کیا ہے کہ قطر کی اہم گیس تنصیب راس لفان کو حالیہ حملے میں ہونے والا نقصان عالمی گیس قیمتوں پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔

پیرس میں قائم توانائی پالیسی کے ایک ادارے سے وابستہ ماہر کے مطابق اس تنصیب کو ہونے والے نقصان کی مکمل نوعیت ابھی واضح نہیں، تاہم ماضی کے واقعات کو دیکھتے ہوئے مرمت کا عمل طویل ہو سکتا ہے اور اس میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 2022 میں امریکی ریاست ٹیکساس کی ایک بڑی گیس تنصیب آٹھ ماہ تک بند رہی تھی، جب کہ ناروے کی ایک تنصیب 2020 میں آتشزدگی کے بعد ڈیڑھ سال تک غیر فعال رہی۔

تاہم قطر انرجی کے سربراہ سعد الکعبی کے مطابق ایران کے حالیہ حملوں سے قطر کی مائع قدرتی گیس کی پیداواری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث برآمدی صلاحیت کا سترہ فیصد حصہ متاثر ہوا ہے، جب کہ مرمت اور بحالی میں تین سے پانچ سال لگ سکتے ہیں۔

این سوفی کوربو کے مطابق اگر صورت حال بدترین رخ اختیار کرتی ہے تو راس لفان کی مکمل بحالی 2026 تک مؤخر ہو سکتی ہے، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس سال گیس کی عالمی سپلائی تقریباً 2021 کی سطح تک محدود رہ جائے گی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ یہ صورت حال عالمی توانائی منڈی کو پانچ سال پیچھے دھکیل سکتی ہے اور اس کے اثرات نہ صرف گیس کی قیمتوں بلکہ عالمی معیشت پر بھی انتہائی گہرے ہوں گے۔

دوسری جانب بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق قطر کی اہم توانائی تنصیب راس لفان پر ایران کے حملے کے بعد ملک کی قیادت نے نقصانات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ قطر کے وزیرِاعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے کہا ہے کہ ان حملوں کے توانائی کی فراہمی پر اثرات مرتب ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق یہ گیس منصوبہ پہلے بھی ایک حملے کے بعد عارضی طور پر بند ہو چکا تھا، تاہم بعد کے حملوں نے نقصان میں مزید اضافہ کیا۔ ایران کی جانب سے توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے باعث عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ادھر، امریکا اور یورپی ممالک سمیت کئی عالمی طاقتیں آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کی حفاظت اور توانائی منڈیوں کے استحکام کے لیے اقدامات پر غور کر رہی ہیں، کیونکہ یہ راستہ عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

خیال رہے گزشتہ دنوں ایران نے پارس گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کے جواب میں ابوظہبی، قطر، کویت، سعودیہ عرب کی توانائی تنصیبات پر راکٹ حملے کیے تھے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

رپورٹس کے مطابق قطر کی راس لفان انڈسٹریل سٹی، جو ملک کا سب سے بڑا گیس مرکز ہے، اس پر ایرانی میزائل حملے میں نمایاں نقصان ہوا۔

قطر کی وزارت دفاع کے مطابق ایران کی جانب سے ملک پر پانچ میزائل داغے گئے تھے۔ ان میں سے چار میزائلوں کو مار گرایا گیا تھا جب کہ پانچواں راس لفان انڈسٹریل سٹی میں گرا تھا۔

Similar Posts