نماز عید کی ادائیگی کے فوراً بعد الخدمت کے زیر انتظام غزہ متاثرین کے لیے مختص رہائشی ٹاور پہنچے، جہاں انہوں نے فلسطینی خاندانوں سے ملاقات کی، ان کے سر پر دستِ شفقت رکھا، عید کی مبارکباد دی اور عیدی کے ساتھ تحائف پیش کیے۔
ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے وہاں مقیم غزہ سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کو مسلسل مصائب کے باوجود ثابت قدمی اور صبر کا مظاہرہ کرنے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔
الخدمت فاؤنڈیشن کی جانب سے شہر العبور میں غزہ کے یتیم بچوں اور متاثرہ خاندانوں کے اعزاز میں خصوصی ظہرانے کا اہتمام کیا گیا، جس میں بچوں کو کھلونے، عیدی اور دیگر عید کے تحائف تقسیم کیے گئے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر الخدمت نے کہا الخدمت فاؤنڈیشن اپنے فلسطینی بہن بھائیوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی، میں اہلِ پاکستان کی جانب سے آپ سب کے لیے محبتوں اور دعاؤں کا پیغام لایا ہوں۔ پاکستانی عوام نہ صرف آپ کے لیے دعائیں کر رہے ہیں بلکہ اپنا مال بھی وقف کر رہے ہیں۔
غزہ کے اندر ریسکیو اور ریلیف کے بعد اب بحالی کے منصوبے بھی جاری ہیں، جبکہ مصر میں ہجرت کرنے والے مہاجرین کی میزبانی اور کفالت کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔
قبل ازیں جامعہ الازہر میں نماز جمعہ اور نماز عید کی ادائیگی کے بعد ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے مختلف عمائدین اور شخصیات سے ملاقاتیں کیں، جن میں غزہ کے لیے جاری امدادی سرگرمیوں سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال ہوا۔
بعد ازاں قاہرہ میں الخدمت کیمپ آفس کے سٹاف اور رضاکاروں سے عشائیہ پر میٹنگ میں ریلیف آپریشنز کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ کے اہداف پر رہنمائی کی گئی۔
صدر الخدمت نے ٹیم کو عید کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ الخدمت پاکستان، مصر، غزہ، فلسطین، لبنان، اردن اور ترکیہ سمیت مختلف ممالک سے غزہ متاثرین کے لیے ریلیف اور بحالی کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
فلسطینی عوام کی خدمت ایک بہت بڑی سعادت ہے اور بحالی تک یہ کاوشیں جاری رہیں گی۔یہ دورہ الخدمت کی جانب سے غزہ کے مظلوموں کے ساتھ یکجہتی اور انسانی ہمدردی کا ایک روشن باب ہے، جو پاکستانی عوام کی طرف سے فلسطین کے لیے مسلسل حمایت کی عکاسی کرتا ہے۔