لاہور: پنجاب میں اے آئی پر مبنی گورننس سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ

0 minutes, 1 second Read
لاہور میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پورے حکومتی، سرکاری اور دفتری نظام کو جدید آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) پر منتقل کرنے کا انقلابی فیصلہ کر لیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے پنجاب میں اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد اے آئی پر مبنی گورننس نظام متعارف کرانے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت وزیراعلیٰ آفس کو “اے آئی آفس آف سی ایم” میں تبدیل کیا جائے گا، جو مکمل طور پر ٹیکنالوجی اور اے آئی سے چلنے والا پاکستان کا پہلا دفتر ہوگا۔

اجلاس کی صدارت سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کی، جبکہ وزیراعلیٰ کے اے آئی امور کے مشیر علی ڈار نے جامع بریفنگ دی۔ اجلاس میں “اے آئی وژن 2029” اور “آفس آف اے آئی پنجاب” منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں ایک جدید “اے آئی ڈیلیوری یونٹ” قائم کیا جائے گا اور تمام سرکاری محکموں کو ایک سنٹرل اے آئی یونٹ سے منسلک کرکے مکمل اے آئی ایکو سسٹم تشکیل دیا جائے گا۔

علی ڈار کے مطابق ڈیٹا اینالیٹکس، اسمارٹ مانیٹرنگ اور فوری عوامی خدمت پر مبنی گورننس کے ذریعے شفافیت اور کارکردگی میں اضافہ ہوگا، جبکہ اے آئی پر مبنی ڈیش بورڈز اور مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بھی قائم کیے جائیں گے۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ فزیکل اے آئی سسٹمز اور اے آئی اکیڈمی کے ذریعے نوجوانوں کو جدید ٹریننگ دی جائے گی، جس سے ٹیلنٹ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ Foreign, Commonwealth & Development Office (ایف سی ڈی او) اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے ملٹی سیکٹورل اے آئی گورننس ماڈل پر عملدرآمد تیز کیا جائے گا۔

صحت، تعلیم، زراعت، پولیس اور شہری انتظام سمیت مختلف شعبوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے جامع روڈ میپ بھی تیار کر لیا گیا ہے، جبکہ سیف سٹی پراجیکٹس کے تحت خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے جدید سسٹمز اور ورچوئل پولیس اسٹیشنز پہلے ہی فعال ہیں۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کا اے آئی وژن نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں عوامی خدمت کے نظام میں انقلابی تبدیلی کی مثال بنے گا۔

Similar Posts