ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہینام کے مطابق یہ حملہ مشرقی دارفور کے دارالحکومت الڈائن میں واقع ایک تدریسی ہسپتال پر کیا گیا، جس میں مریضوں کے ساتھ ساتھ دو نرسیں اور ایک ڈاکٹر بھی جاں بحق ہوئے۔
حملے میں مزید 89 افراد زخمی ہوئے جن میں طبی عملہ بھی شامل ہے۔ اس واقعے کے بعد ہسپتال کے بچوں، زچگی اور ایمرجنسی وارڈز شدید متاثر ہوئے اور ہسپتال مکمل طور پر غیر فعال ہو گیا۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق سوڈان کی جاری جنگ کے دوران صحت کے مراکز پر حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ 2023 سے اب تک 213 حملے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ حملہ مبینہ طور پر فوج کے ڈرون کے ذریعے کیا گیا، تاہم ڈبلیو ایچ او نے کسی فریق کو براہ راست ذمہ دار قرار نہیں دیا۔
واضح رہے کہ سوڈان میں اپریل 2023 سے فوج اور نیم فوجی فورس کے درمیان جنگ جاری ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور ایک کروڑ سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔
.@WHO has verified yet another attack on health care in #Sudan. This time, Al Deain Teaching Hospital in East Darfur’s capital, Al Deain, was struck, killing at least 64 people, including 13 children, two female nurses, one male doctor, and multiple patients.
As a result of this… pic.twitter.com/RAwDR5YVjd
— Tedros Adhanom Ghebreyesus (@DrTedros) March 21, 2026
اقوام متحدہ کے مطابق یہ تنازع دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک بن چکا ہے، جہاں 3 کروڑ سے زائد افراد کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ صحت کے مراکز کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک ہے اور اس کے سنگین نتائج سامنے آتے ہیں، انہوں نے فوری جنگ بندی اور شہریوں کے تحفظ کی اپیل بھی کی۔