ایران سے جاری مثبت اور نتیجہ خیز مذاکرات کے باعث پاور پلانٹس پر حملے مؤخر کردیئے؛ ٹرمپ

0 minutes, 0 seconds Read
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے توانائی کے مراکز پر ممکنہ حملے مؤخر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ دنوں میں مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق ایران کو آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھولنے کے لیے دی گئی مہلت کے باوجود امریکا نے پانچ روز تک کسی بھی فوجی کارروائی کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ موجودہ پیچیدہ صورتحال کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی قسم کی براہ راست بات چیت نہیں ہوئی۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مختلف ممالک پس پردہ کشیدگی کم کرنے کے لیے پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ ایران اور لبنان میں جاری حملوں کا سلسلہ بھی تیز ہوگیا۔

ایران کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ جنوبی لبنان میں پلوں اور رہائشی عمارتوں پر حملے کیے گئے ہیں۔

ایران اور لبنان میں جاری اس تنازع کے دوران ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ چکی ہے جس کے باعث انسانی بحران کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

امریکی صدر کے بیان کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت سات فیصد سے زائد کم ہو کر ننانوے ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی جبکہ اس سے قبل قیمت ایک سو چودہ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔

 

Similar Posts