امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران سے مذاکرات جاری رہنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکا دونوں ڈیل کرنا چاہتے ہیں، اسرائیل سے بات ہوگئی ہے، وہ تازہ پیشرفت پر خوش ہے۔
پیر کو فلوریڈا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع کے حل کے لیے پُرعزم ہیں، ایران ڈیل کرنا چاہتا ہے اور ایران کے قابل احترام رہنما سے بات چیت ہوئی ہے، مشرقی وسطیٰ میں جنگ کے مکمل اور حتمی حل سے متعلق انتہائی نتیجہ خیز گفتگو ہوئی ہے، تفصیلی اور تعمیری بات چیت پورے ہفتے جاری رہے گی، اُمید ہے ایران کے مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے خود مذاکرات کے لیے رابطہ کیا تھا، ایران کو اس کے جہازوں پر بھرا تیل فروخت کرنے کی اجازت دی ہے، ایران کے ساتھ معاہدہ ہونے کی گارنٹی نہیں دے سکتا، اگر ڈیل ہوئی تو ایران کے لیے اچھا آغاز ہوگا، یہ اسرائیل اور مشرق وسطی کے ممالک کے لیے بھی اچھا ہوگا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایٹمی ہتھیار نہیں چاہتے، صرف مشرق وسطیٰ میں امن چاہتے ہیں، اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے وہ مشرق وسطیٰ پر قبضہ کرلیتا، ہم نے اسرائیل سے بھی رابطہ کیا ہے، اسرائیل بھی بہت خوش ہے، امن کی گارنٹی ہوگی، اسرائیل بھی دیرپا امن چاہتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ایران مذاکرات میں دونوں ملک کئی نکات پر راضی ہیں، اگر ڈیل ہوگئی تو ایران کا افزودہ یورینیم امریکی استعمال میں لائیں گے، ڈیل کی بات میں نے نہیں ایران نے کی ہے، اب نہ نیوکلیر ہتھیار ہوں گے اور نہ ہی کوئی جنگ، ہم نہیں چاہتے کہ ایران اب نیوکلیر کے قریب بھی آئے۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ میری پوری لائف ڈیل میں گزری، کل صبح ہم ایران کا سب سے بڑا توانائی پلانٹ تباہ کرنے والے تھے، ایک حملے میں یہ گرجاتا، دوبارہ بنانے میں 10 ارب ڈالرز لگتے، اگر بی 52 بمبار سے حملہ نہ کرتے تو ایران چند ہفتوں میں ایٹمی ہتھیار بنا لیتا۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای قتل ہوچکے ہیں اور ان کے بیٹے کو میں لیڈر نہیں سمجھتا، ہم نے فیز ون اور فیز تین تک ان کی قیادت ختم کردی، ہم نے ابھی تک دوسرے سپریم لیڈر سے متعلق کچھ نہیں سنا، ہم نہیں جانتے دوسرا سپریم لیڈر زندہ بھی ہے یا نہیں اور میں نہیں چاہتا مجتبیٰ خامنہ ای کو نشانہ بنایا جائے۔
یاد رہے کہ پیر کو صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ دو روز سے جاری مذاکرات بڑے مثبت اور نتیجہ خیز رہے ہیں، مذاکرات کی بنیاد پر ایران کے جوہری اہداف کے خلاف فوجی کارروائی اگلے پانچ دن کے لیے مؤخر کر رہے ہیں۔ امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ تفصیلی اور تعمیری مذاکرات ایک ہفتے تک جاری رہیں گے۔
بعد ازاں ایران نے صدر ٹرمپ کے ساتھ کسی بھی بات چیت کی خبروں کی تردید کی تھی۔ ایرانی وزارت خارجہ نے ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے وقت حاصل کرنے کا حربہ قرار دیا تھا۔