جسٹس محسن اختر کیانی نے 28 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں اسلامی قوانین، قرآنی آیات اور غیر ملکی عدالتوں کے فیصلوں کا حوالہ دیا گیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اپیلٹ کورٹ نے غلطی کی اور درخواست گزار بیوی کے حقوق سے انکار کیا، شادی کے دوران حاصل جائیداد میں بیوی کا حق تسلیم کیا جا سکتا بشرطیکہ شراکت داری ثابت ہو، جہیز اور دلہن کے ذاتی تحائف مکمل طور پر خاتون کی ملکیت ہیں اور جہیز کا سامان واپس نہ ہونے کی صورت میں خاتون متبادل قیمت حاصل کر سکتی ہے۔
فیصلے میں خواتین کے آئینی اور قانونی تحفظات کو مناسب قانون سازی اور پالیسی اقدامات کے ذریعے آگے بڑھانے، حکومت کو خواتین کے ملکیتی حقوق کا واضح اعلان اور تحفظ کرنے، گھریلو خواتین کو شادی کے دوران حاصل اثاثوں میں مناسب حصہ دینے سے متعلق قانون سازی کرنے اور قانون سازی میں خواتین کے مفادات کو مدنظر رکھنے کی ہدایت دی گئی۔
فیصلے میں کہا گیا خواتین تقریباً نصف آبادی ہیں اور خواتین کے حقوق کا تحفظ منصفانہ اور ترقی پسند معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا، عدالت نے نکاح نامہ میں ترمیم کی ہدایت دیتے ہوئے قرار دیا کہ شادی کے بعد شوہر کی ملکیت میں جائیداد شادی کے دوران، طلاق یا موت کی صورت میں بیوی کے ساتھ مساوی طور پر تقسیم ہونے کی شرط شامل ہو۔
یہ شرط قانون سازی کے متبادل راستے کے طور پر بیوی کے جائیداد کے حقوق کی حفاظت کرے گی، اسکول، کالج اور یونیورسٹی سطح پر لڑکیوں کو ازدواجی حقوق سے متعلق تعلیم دینے اور نکاح نامہ کے کالم نمبر 18 میں اپنے حقوق درج کرنے سے متعلق بھی ہدایات جاری کی گئیں۔