بھارتی جریدہ بھی پاکستانی سفارتکاری کے گُن گانے لگا، مودی سرکار کی خارجہ پالیسی پر کڑی تنقید

0 minutes, 0 seconds Read
بھارتی جریدے دی وائر نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کی مؤثر اور متوازن سفارت کاری نے بھارت کی خارجہ پالیسی کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور خطے میں اسلام آباد کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا نے مشرقِ وسطیٰ کے معاملات میں نئی دہلی کے بجائے اسلام آباد کی اہمیت کو تسلیم کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔

جریدے نے لکھا کہ نریندر مودی حکومت کے بلند و بانگ دعوے عملی میدان میں ناکام ثابت ہوئے، جبکہ پاکستان نے سفارتی توازن برقرار رکھتے ہوئے دونوں اہم فریقین کا اعتماد حاصل کیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارت کی پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی حکمت عملی بری طرح ناکام ہوئی ہے اور بھارت کو اب خطے میں ایک کمزور کھلاڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جبکہ پاکستان علاقائی استحکام کے ایجنڈے پر مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔

دی وائر کے مطابق دنیا بھارت کو اسرائیل اور امریکا کا حد سے زیادہ تابع سمجھتی ہے جس کے باعث اس کی اسٹریٹجک خودمختاری متاثر ہوئی ہے جبکہ پاکستان نے متوازن خارجہ پالیسی کے ذریعے اپنی ساکھ مضبوط کی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان، مصر اور ترکیہ کے درمیان سفارتی تعاون نے بھارت کو مغربی ایشیائی قیادت سے باہر کر دیا ہے جبکہ چاہ بہار منصوبے میں بھارت کی سرمایہ کاری بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

جریدے کے مطابق جس ملک کو مودی حکومت نے غیر اہم قرار دیا تھا وہی آج عالمی امن میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے جبکہ بھارت کی پالیسیز اسے تنہائی کی طرف لے جا رہی ہیں۔

Similar Posts