پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات؛ امریکی وفد اسلام آباد روانہ

0 minutes, 0 seconds Read

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکا کے نائب صدر جیمز ڈیود وینس (جے ڈی وینس) ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان روانہ ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق امریکی نائب صدر پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات کی قیادت کریں گے اور ان کے ہمراہ امور برائے مشرقِ وسطیٰ کے خصوصی ایلچی اسٹیف وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد اور ان کے خصوصی مشیر جیرڈ کُشنر بھی موجود ہوں گے، جو اس سے قبل بھی ایران کے ساتھ ابتدائی بات چیت میں شامل رہ چکے ہیں۔

وائٹ ہاؤس ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نائب صدر جے ڈی وینس کو ان مذاکرات کے لیے مکمل اختیارات دے دیے ہیں، جس سے اس عمل کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران میں ”درست لوگوں“ سے بات کر رہا ہے اور مذاکرات میں پیش رفت کے آثار موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مارکو روبیو اور جے ڈی وینس سمیت کئی اہم شخصیات اس عمل کا حصہ ہیں، جبکہ ان کے مطابق ایران کی نئی قیادت معاہدے کی جانب بڑھ رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت میں ایک بڑی رکاوٹ وہاں کے مواصلاتی نظام کی خرابی ہے، جس کے باعث رابطہ مشکل ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت سے روکنے کے لیے پرعزم ہے، جبکہ انہوں نے ایران کی موجودہ صورتحال کو ایک بڑی تبدیلی قرار دیا ہے۔

ادھر پاکستان اس سارے عمل میں ایک اہم کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شریک تھے۔

اجلاس میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے حل کے لیے پاکستان کی میزبانی میں ممکنہ مذاکرات پر غور کیا گیا۔

بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان امریکا اور ایران کی رضامندی سے بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جاری تنازع کے جامع حل کے لیے سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے اور پاکستان اس عمل میں اپنا کردار ادا کرنے پر فخر محسوس کرے گا۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی سفارتی سطح پر رابطے تیز کر دیے ہیں۔ انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک گفتگو کی اور مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش سے آگاہ کیا، جس پر ایرانی وزیر خارجہ نے اپنی قیادت سے مشاورت کے بعد جواب دینے کی یقین دہانی کرائی۔

اس کے علاوہ اسحاق ڈار نے متحدہ عرب امارات اور مصر کے وزرائے خارجہ سے بھی رابطہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو فروغ دینا ضروری ہے۔

دوسری جانب ایران اور چین کے درمیان بھی رابطے جاری ہیں۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ بات چیت ہمیشہ جنگ سے بہتر ہوتی ہے اور تمام فریقین کو امن کے ہر ممکن موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

جس پر عباس عراقچی نے کہا کہ ایران عارضی نہیں بلکہ ایک جامع اور مستقل جنگ بندی کے لیے پرعزم ہے۔

ذرائع کے مطابق رواں ہفتے کے اختتام یا آئندہ ہفتے کے آغاز میں کسی بڑی پیش رفت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ممکنہ جنگ بندی مذاکرات اسلام آباد میں ہو سکتے ہیں۔

موجودہ صورتحال میں پاکستان عالمی سطح پر ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں تمام نظریں آئندہ سفارتی پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

Similar Posts