ماہرین کے مطابق ان حملوں میں جیمنگ اور اسپوفنگ جیسی تکنیکیں استعمال کی جا رہی ہیں، جن کے ذریعے جی پی ایس سگنلز کو متاثر کر کے جنگی مقاصد حاصل کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران بھی اس نوعیت کی سرگرمیاں دیکھی گئی تھیں، جبکہ اب ایران کے گرد و نواح کے خطے میں بھی اسی طرح کی غیر معمولی صورتحال سامنے آ رہی ہے۔
فضائی اور بحری راستے استعمال کرنے والے ادارے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں روزانہ درجنوں پروازیں اور بحری جہاز اپنے راستے سے بھٹک رہے ہیں، جس کی بڑی وجہ جی پی ایس سسٹم پر ہونے والے حملے ہیں۔ اس سے نہ صرف سفری نظام متاثر ہو رہا ہے بلکہ عالمی تجارت اور سلامتی کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق ’’جیمنگ‘ ایک ایسا عمل ہے جس میں طاقتور الیکٹرو میگنیٹک شور کے ذریعے جی پی ایس سگنلز کو کمزور یا معطل کر دیا جاتا ہے، جبکہ ’اسپوفنگ‘ کے ذریعے نیویگیشن سسٹمز کو دھوکہ دے کر غلط لوکیشن ظاہر کروائی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں طیارے اور جہاز اپنی اصل سمت کھو سکتے ہیں، جو ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس قسم کے سائبر حملوں کو نہ روکا گیا تو مستقبل میں عالمی فضائی اور بحری نظام کو بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔