سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرپرسن سینیٹر انوشہ رحمان کی زیرصدارت ہوا، جس میں اگلے مالی سال کے بجٹ میں ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے لیے 8 ارب 14 کروڑ 42 لاکھ روپے کا بجٹ مانگا گیا ہے۔
چیئرپرسن کمیٹی انوشہ رحمان نے اجلاس میں بتایا کہ ٹی ڈی اے پی کے ملازمین سے متعلقہ اخراجات بہت زیادہ ہیں، جو ایک ارب 12 کروڑ روپے کے لگ بھگ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ارب 12 کروڑ 30 لاکھ روپے آپریٹنگ اخراجات ہیں۔ ملازمین کے ریٹائرمنٹ بینفٹس کی مد میں ساڑھے 9 کروڑ روپے کے اخراجات ہیں۔
کوئٹہ میں ایکسپوسینٹر کی تعمیر
اجلاس میں وزارت تجارت کے ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں بھی غور کیا گیا۔ سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ وزارت تجارت کوئٹہ میں ایکسپو سینٹر قائم کرنا چاہتی ہے۔ کمیٹی کو تجویز دی گئی ہے کہ ایکسپو سینٹر کوئٹہ ائیر پورٹ کے نزدیک قائم کیا جائے ، جس کی تعمیر کے لیے حکومت بلوچستان نے زمین فراہم کرنی ہے۔
سیکرٹری تجارت جواد پال نے اجلاس میں بتایا کہ بلوچستان حکومت کو زمین کی فراہمی کے لیے درخواست کی ہے ۔ بلوچستان حکومت نے منصوبے کے لیے زمین فراہم کرنی ہے۔ بلوچستان حکومت پرانی جگہ پر ہی ایکسپو سینٹر کی تعمیر چاہتی ہے۔ بلوچستان حکومت کا موقف ہے کہ علاقے میں لا اینڈ آڈر کا کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ اس بارے میں حتمی جواب وزیر اعلیٰ بلوچستان سے بات چیت کے بعد ہی دے سکتے ہیں۔
سینیٹر بلال احمد نے اس موقع پر کہا کہ جو زمین فراہم کی گئی ہے اس کے پاس ایک صنعتی زون بھی بنایا گیا ہے ۔ اس صنعتی زون میں کوئی مقامی سرمایہ کار عام دنوں میں بھی نہیں جا سکتا۔ جب عام حالات میں بھی مقامی افراد اس علاقے میں نہیں جا سکتے تو ایکسپو سینٹر میں کون جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کو یا تو ائیر پورٹ کے قریب بنایا جائے یا پھر یہ منصوبہ ترک کردیا جائے۔
سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ اس معاملے پر پہلے صوبائی حکومت کا جواب آنے دیں پھر فیصلہ کریں گے۔
وزارت تجارت کے حکام نے کہا کہ بلوچستان حکومت ایکسپو سینٹر کی جگہ تبدیل کرنے کے حق میں نہیں ہے ۔ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے خود اس معاملے پر بات کریں گے۔
بعد ازاں کمیٹی نے ایکسپو سینٹر کی تعمیر کے لیے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں فنڈز مختص کرنے کی منظوری دیدی ۔
علاوہ ازیں اجلاس میں صنعتی شعبے کو ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ سے مالی معاونت فراہم کرنے کے معاملے پر وزارت تجارت کے حکام نے کہا کہ اس کا فیصلہ ای ڈی ایف کا بورڈ کر سکتا ہے۔ وزارت تجارت ای ڈی ایف بورڈ کو ہدایات جاری نہیں کر سکتی ۔ کمیٹی کی سفارشات پر بورڈ غور کرنے کے بعد فیصلہ کر سکتا ہے۔
کمیٹی نے تجویز دی کہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں اخراجات کو کم کیا جائے ۔