پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر ایم کیو ایم پاکستان پر پھٹ پڑے، سنگین الزامات

0 minutes, 0 seconds Read
پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کی پریس کانفرنس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ  نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کا حالیہ بیانیہ سیاسی دیوالیہ پن اور عوام کو گمراہ کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ وفاق میں شراکت دار ہونے کے باوجود سندھ حکومت کے خلاف ہرزہ سرائی کرنا ان کے دوغلے پن کا واضح ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 140-اے اور بلدیاتی نظام کے نام پر یہ لوگ دراصل کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی اپنی پرانی اور ناکام سازشوں کو ہوا دے رہے ہیں۔ خالد مقبول صدیقی اور ان کی جماعت دونوں عوام میں غیر مقبول ہوچکے ہیں۔

ذوالفقار علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ کی دھرتی صوفیائے کرام کی سرزمین ہے، اس کی تقسیم کا خواب دیکھنے والے ہمیشہ ناکام ہوں گے۔ 28 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے مہم جوئی کرنے کے بجائے ایم کیو ایم کو اپنی کارکردگی پر توجہ دینی چاہیے ۔ کراچی کے عوام اب ان کے کھوکھلے نعروں اور لسانی سیاست کے بہکاوے میں آنے والے نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی خودمختاری اور 18 ویں ترمیم پر کسی بھی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ ایم کیو ایم کے وزرا وفاق میں بیٹھ کر مراعات لے رہے ہیں اور کراچی میں آ کر مظلومیت کا رونا روتے ہیں ۔ بلدیاتی اختیارات کا رونا رونے والے بتائیں کہ جب وہ اقتدار میں تھے تو انہوں نے عوام کے لیے کیا کیا؟۔

صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت نے کہا کہ سندھ حکومت نے ہمیشہ کراچی کی ترقی کے لیے ریکارڈ فنڈز دیے ہیں، جبکہ ایم کیو ایم نے صرف لسانی نفرتوں کو فروغ دیا ہے۔ آرٹیکل 140-اے کی تشریح اپنی مرضی سے کرنا آئین کے ساتھ مذاق ہے۔ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کا عمل جاری ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کی وحدت پر کوئی آنچ نہیں آنے دے گی۔

انہوں نے کہا کہ تقسیمِ سندھ کی باتیں کرنے والے ملک دشمن ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے ان اتحادیوں سے پوچھے کہ وہ کیوں بار بار صوبائی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم کی سیاست اب صرف پریس کانفرنسوں تک محدود رہ گئی ہے۔ ہم ہر اس آئینی ترمیم کی مخالفت کریں گے جو سندھ کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے یا اسے تقسیم کرنے کی نیت سے لائی جائے گی۔

Similar Posts