انہوں نے کہا کہ سیاسی مقاصد کیلئے پاکستان کے قومی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر ذاتی بیانیہ کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ عارف اجاکیہ جیسے متنازعہ اور پاکستان مخالف بیانیہ رکھنے والے افراد سے ملاقاتیں کسی عام سیاسی عمل کا حصہ نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے بیانیے کا تسلسل محسوس ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق کچھ عناصر عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف فضا بنانے میں مصروف ہیں اور اس قسم کی حرکتوں سے وہ صرف اپنی سیاست کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو اتحاد، استحکام اور ذمہ دار قیادت کی ضرورت ہے اور ایسے اقدامات قومی بیانیے کو کمزور کرنے کے مترادف ہیں۔ طارق فضل چوہدری نے سوال اٹھایا کہ کیا یہی وہ سیاست ہے جس کا دعویٰ “تبدیلی” کے نام پر کیا گیا تھا یا قومی وقار کو نقصان پہنچا کر اقتدار کے حصول کیلئے ہر حد پار کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام بخوبی سمجھتے ہیں کہ کون ملک کے ساتھ کھڑا ہے اور کون اپنے مفادات کا تحفظ کر رہا ہے۔