ڈیرہ اسماعیل خان میں میڈیا سے گفت گو میں انہوں ںے کہا کہ حکومتی رٹ کہیں نظر نہیں آرہی، ڈیرہ اسماعیل خان ، لکی مروت اور ٹانک وغیرہ بے امنی کا شکار ہیں، مشرقی اور مغربی سرحدوں پر حالات کشیدہ ہیں، ہم تجویز دے چکے ہیں کہ پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حالات پر قومی مشاورت کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جائے، بین الاقوامی اور قومی سطح پر قومی پالیسی واضح کی جائے، اسلامی دنیا میں ہر طرف جنگ ہے، عراق لیبیا کے بعد اب ایران کا کیا بنا ہے ہمیں اسلامک بلاک کی طرف جانا چاہییے۔
انہوں نے کہا کہ ثالثی کی باتیں ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس وقت ثالثی کی پوزیشن میں ہے؟ پاکستان کے پاس ثالثی کے سوا کوئی راستہ ہی بھی نہیں، پاکستان کی کوئی فارن پالیسی نہیں ہے۔