کیمرون میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کی چودھویں وزارتی کانفرنس کے اہم اجلاس میں شرکت کے لیے دنیا بھر کے وفود وسطی افریقی ملک کے دارالحکومت یااوندے پہنچ گئے ہیں جہاں وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پاکستانی وفد کی قیادت وزیر مملکت خزانہ اور ریلوے بلال اظہر کیانی کر رہے ہیں، جینیوا میں ڈبلیو ٹی او کے لیے پاکستان کے مستقل مندوب علی سرفراز بھی پاکستانی وفد میں شامل ہیں۔
عالمی سطح پر یک طرفہ اور جانب دارانہ اقدامات، مختلف ممالک کی جانب سے ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں میں اضافے کے باعث ڈبلیو ٹی او کو اپنی بقا کا مسئلہ درپیش ہے، ایسے میں ڈبلیو ٹی او کا یہ اجلاس اس عالمی تنظیم کی بقا کے حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ بین الاقوامی نظام پر بعض ممالک کی جانب سے اپنی قومی ترجیحات کو فوقیت دینے سے ڈبلیو ٹی او کا کردار سوال بن کر رہ گیا ہے۔
پاکستانی وفد کے سربراہ بلال اظہر کیانی کو ڈبلیو ٹی او کے زراعت پر خصوصی اجلاس کے سیشن کا منسٹر فسیلیٹیٹر منتخب کر لیا گیا ہے، ڈبلیو ٹی او کے زراعت کے حوالے سے اس خصوصی اجلاس کو زرعی شعبے سے متعلق آئندہ کے لائحہ عمل کی تشکیل کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
خیال رہے کہ زرعی تجارت سے متعلق مذاکرات کئی برسوں سے تعطل کا شکار ہیں، مختلف ممالک کی جانب سے اپنے کسانوں اور خوراک و زراعت سے متعلق پالیسیاں اور ان پر اپنایا جانے والا غیر لچکدار رویہ مذاکرات میں تعطل کی وجہ بن رہا ہے۔
وزارتی کانفرنس کے دوران وزیر مملکت خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی رکن ممالک کی اہم اور اعلیٰ سیاسی و سرکاری قیادت سے ملاقاتیں بھی کریں گے اور ان کی سربراہی میں سفیر علی سرفراز کی تیار کردہ سفارشات پر ڈبلیو ٹی او ارکان کا اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔
پاکستان ڈبلیو ٹی او کے مقاصد اور ترقی کے تصور کی مکمل حمایت کرتا ہے، پاکستان تنظیم کے تمام ارکان، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لیے مساوی مواقع کی فراہمی کو ناگزیر سمجھتا ہے۔
وزارتی کانفرنس میں ڈبلیو ٹی او اصلاحات زیر غور آئیں گی اور پاکستانی وفد کے سربراہ بلال اظہر کیانی کانفرنس میں ڈبلیو ٹی او کے بنیادی اصولوں کی اہمیت اجاگر کریں گے، پاکستان ایسی اصلاحات کا حامی ہے جس سے کثیر الملکی تجارتی نظام مضبوط ہو۔