ٹرمپ کا یو ٹرن، ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے مزید 10 روز تک مؤخر کرنے کا اعلان

0 minutes, 0 seconds Read

امریکا  کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے مزید 10 روز تک مؤخر کا اعلان کردیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر صدر ٹرمپ نے جاری بیان میں کہا کہ 6 اپریل 2026 تک وہ ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے روک رہے ہیں.

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی توانائی تنصیبات پر حملوں کو مزید 10 روز کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے، جس کے تحت نئی ڈیڈ لائن 6 اپریل 2026 مقرر کی گئی ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ’’فیک نیوز میڈیا کے برعکس ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور یہ مذاکرات بہت اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔‘‘

ٹرمپ نے اس سے قبل 23 مارچ کو ایران کے پاور پلانٹس اور توانائی کے ڈھانچے پر حملے 5 روز کے لیے روکنے کا اعلان کیا تھا، جسے اب بڑھا کر 10 روز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی تردید کی ہے، جبکہ ایک ایرانی عہدیدار نے امریکی تجویز کو ’’یکطرفہ اور غیر منصفانہ‘‘ قرار دیا ہے۔

امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں کابینہ اجلاس کے دوران ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر دباؤ مزید بڑھایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ایرانی حکومت شکست تسلیم کر رہی ہے‘‘ اور آئندہ چار سے چھ ہفتوں میں مشن مکمل ہو سکتا ہے۔

ادھر امریکی میڈیا کے مطابق ایران نے 10 روزہ مہلت کی درخواست نہیں کی، تاہم ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ایران نے 7 روزہ وقفے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر تہران کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات ناکام ہونے کے بعد حملے شروع کیے تھے، جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں جنگ پھیل گئی۔ اس چار ہفتوں پر محیط جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ عالمی معیشت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔

جنگ کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوا، ایل این جی کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں جبکہ کھادوں کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ایران نے بھی جوابی کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے اسرائیل اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، جبکہ خلیجی ممالک پر حملوں کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بھی متاثر کی، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی گزرتی ہے۔

Similar Posts