چیف جسٹس کے مطابق گزشتہ تین برس 2023 سے 2025 تک دنیا کے گرم ترین سال قرار پائے، جو موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے خطرات کی واضح علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نسل پر ماحول کے تحفظ کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان میں کسی بھی ترقیاتی منصوبے سے قبل ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینا قانونی طور پر لازمی ہے۔
عدالت نے ماحول کے تحفظ کے لیے خصوصی گرین بنچ قائم کر رکھا ہے جو نباتات اور حیوانات کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے، جبکہ ماحولیاتی تحفظ ٹریبونل اسلام آباد میں مقدمات کے جلد فیصلوں کے لیے سرگرم عمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدلیہ نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے تاریخی فیصلے دیے، جن میں شیلا ضیا کیس اور مونال ریسٹورنٹ کیس نمایاں ہیں۔
اسی طرح مارگلہ ہلز نیشنل پارک کے تحفظ کے لیے غیر قانونی کان کنی، جنگلات کی کٹائی اور تجاوزات کے خلاف سخت احکامات جاری کیے گئے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ فضائی آلودگی میں کمی، ویسٹ مینجمنٹ کی بہتری اور صنعتی آلودگی کے خاتمے کے لیے عدالت نے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ عوام سے اپیل ہے کہ وہ فضلہ کم کریں، درخت لگائیں، پانی محفوظ بنائیں اور پائیدار طرزِ زندگی اپنائیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے “ارتھ آور 2026” مہم کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 28 مارچ 2026 کو رات 8:30 سے 9:30 بجے تک عدالت کی عمارت کی روشنیاں بند رکھی جائیں گی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ماحول کا تحفظ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے اور ہر چھوٹا قدم بھی بڑی تبدیلی لا سکتا ہے، آئیں مل کر صاف، سرسبز اور پائیدار مستقبل کے لیے عملی اقدامات کریں۔