بابر اعظم کی نجی زندگی سے متعلق بڑی خوشخبری سامنے آگئی

0 minutes, 0 seconds Read
پاکستان کرکٹ ٹیم کے بلے باز بابر اعظم کی نجی زندگی سے متعلق بڑی خوشخبری سامنے آگئی۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان کرکٹ ٹیم سابق کپتان بابر اعظم کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

عدالت نے بابر اعظم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

عدالت نے بابر اعظم کی اندراج مقدمہ کے خلاف دائر درخواست منظور کرلی۔

بابر اعظم نے درخواست میں جسٹس آف پیس کے مقدمہ درج کرنے کے حکم کو چیلنج کیا تھا۔

جسٹس آف پیس نے خاتون  حمیزہ مختار کی درخواست پر ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کی تھی۔ خاتون نے درخواست گزار بار اعظم پر شادی کا جھانسہ دے کر تعلقات قائم کرنے کا الزام لگایا تھا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس اسجد جاوید گھرال نے بابر اعظم کی درخواست پر آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ درخواست گزار بابر اعظم کی جانب سے بیرسٹر حارث عظمت پیش ہوئے۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ خاتون کے مطابق دونوں کے درمیان طویل عرصے تک تعلقات رہے۔ خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ تعلقات تقریباً آٹھ سال تک جاری رہے۔

خاتون کے مطابق اس دوران وہ 2015 میں حاملہ بھی ہوئی۔ خاتون نے الزام لگایا کہ بعد میں اس کا حمل ضائع کروا دیا گیا۔

خاتون کے مطابق درخواست گزار نے اس سے بڑی رقم بھی حاصل کی۔ خاتون کا مؤقف تھا کہ بعد میں درخواست گزار نے شادی سے انکار کر دیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ جسٹس آف پیس نے خاتون کی درخواست منظور کرتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا، درخواست گزار نے جسٹس آف پیس کے حکم کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت نے فریقین کے وکلاء کے تفصیلی دلائل سنے اور مقدمے کا ریکارڈ بھی تفصیل سے دیکھا۔ خاتون کے الزامات بظاہر قابلِ یقین نہیں، آٹھ سال تک خاموش رہنا غیر معمولی صورتحال ہے، اتنے طویل عرصے بعد الزام سامنے آنا سوالیہ نشان ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ صرف شادی کے وعدے کا دعویٰ تاخیر کو جواز فراہم نہیں کرتا، ریکارڈ پر ایسا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے، الزامات کی تائید کے لیے شواہد پیش نہیں کیے گئے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ جسٹس آف پیس نے مناسب جانچ کے بغیر حکم جاری کیا، جسٹس آف پیس کا مقدمہ درج کرنے کا حکم قانون کے مطابق نہیں تھا۔

لاہور ہائیکورٹ نے جسٹس آف پیس کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔

Similar Posts