بلال اظہر کیانی نے عالمی تجارتی نظام کو شفاف، جامع اور لچکدار بنانے پر زور دیتے ہوئے پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔ کثیرالجہتی مذاکرات میں پاکستان نے برابری اور ترقیاتی ایجنڈے کی حمایت کی، جبکہ اصلاحات کے پلینری اجلاس میں اہم تجارتی مفادات کے تحفظ پر مؤقف واضح کیا۔
وزیر مملکت نے ڈبلیو ٹی او کے زرعی امور کے لیے منتخب منسٹرفسیلیٹیٹر کی حیثیت سے برطانیہ کے سیکریٹری آف سٹیٹ فار بزنس اینڈ ٹریڈ پیٹر کیل، ترکیہ کے وزیر تجارت ڈاکٹر عمر بولت، اور جاپان کے نائب وزیر زراعت، جنگلات اور ماہی گیری یوکی نورو نیموٹو سے ملاقات کی۔
علاوہ ازیں بلال اظہر کیانی نے چین، امریکہ، برازیل، یورپی یونین، کیمرون، موزیمبیک، کینیڈا اور ارجنٹائن کے اعلی حکام اور کاٹن فور کے رکن ممالک کے نمائندوں سے بھی مشاورت کی۔ انہوں نے قوانین پر مبنی عالمی تجارتی نظام کو مضبوط بنانے اور کسانوں و غذائی تحفظ کے لیے عالمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا، جس سے دیگر عالمی شخصیات نے اتفاق کیا۔
جینیوا میں ڈبلیو ٹی او کے لیے پاکستان کے مستقل مندوب علی سرفراز حسین وزیر مملکت کیانی کی معاونت کر رہے ہیں۔ شریک ممالک نے کانفرنس کے مجوزہ اعلامیہ پر اتفاقِ رائے کے سلسلے میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔
پاکستان کا وفد آج اور کل بھی ڈبلیو ٹی او کانفرنس کے تحت مذاکرات میں بھرپور حصہ لے گا۔