لیڈی ولینگڈن اسپتال میں سیکیورٹی گارڈ کے مریض کو اسپائنل اینستھیزیا دینے کی فوٹیج سامنے آگئی ہے، جس میں سیکیورٹی گارڈ کی جانب سے مریض کو انجکشن لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔
اسپتال کی فوٹیجز سامنے آنے کے بعد حساس طبی عمل غیر تربیت یافتہ شخص سے کروانے پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں کہ اسپتال انتظامیہ کی مبینہ غفلت، غیر متعلقہ شخص کو آپریشن تھیٹر تک رسائی کیسے ملی۔
طبی ماہرین کے مطابق اسپائنل اینستھیزیا صرف تربیت یافتہ ڈاکٹر یا اینستھیٹسٹ ہی دے سکتا ہے لیکن اسپتالوں میں حفاظتی اور پیشہ ورانہ اصولوں پر عمل درآمد پر سوالیہ نشان ہے۔
بعدازاں محکمہ صحت پنجاب نے لیڈی ولنگڈن اسپتال میں سیکیورٹی گارڈ کی جانب سے مریض کو بے ہوشی کا ٹیکا لگانے کے واقعے کا سخت نوٹس لے لیا اور اسپتال کے 4 سینئر کنسلٹنٹس اور ایک ہیڈ نرس کو معطل کر دیا گیا، اسی طرح غفلت کا مظاہرہ کرنے پر متعلقہ سیکیورٹی کمپنی سے معاہدہ بھی فوری طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے بتایا گیا کہ افسران اور ڈاکٹروں کی خدمات کو فوری طور پر پیڈا ایکٹ 2006 کی دفعہ 6 کے تحت نااہلی اور غفلت کی بنیاد پر معطل کیا گیا ہے، یہ کارروائی انتظامی بنیادوں پر ایک پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈ کا آپریشن تھیٹر میں مریضوں کو بے ہوشی کی دوا اینستھیزیا دینے کی وجہ سے عمل میں لائی گئی ہے۔
محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق اسپتال میں تعینات 19 گریڈ کے سینئر کنسلٹنٹ اینستھیٹسٹ، 18 گریڈ کی خاتون سینئر رجسٹرار اینستھیزیا، سینئر وومن میڈیکل آفیسر، اے ایم ایس ایڈمن، سینئر وومن میڈیکل آفیسر اور 17 گریڈ کی خاتون ہیڈ نرس کو معطلی کے بعد فوری طور پر ان کو فرائض سے سبکدوش کر کے اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ اسپتالوں میں نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، مریضوں کا محفوظ علاج معالجہ اولین ترجیح ہے۔
سیکریٹری صحت پنجاب عظمت محمود نے کہا کہ اسپتالوں میں مریضوں کے علاج معالجے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، دوران ڈیوٹی فرائض میں کوتاہی ناقابل برداشت ہے۔