میڈیا رپورٹس کے مطابق انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی نئی پالیسی کے تحت خواتین کھلاڑیوں کے لیے جنس کی تصدیق کے ٹیسٹ متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے جس پر بحث جاری ہے۔ کیسٹر سیمینیا نے اس اقدام کو نہ صرف غیر ضروری بلکہ خواتین کی عزت کے خلاف قرار دیا۔
سیمینیا کا کہنا تھا کہ ایسے ٹیسٹ خواتین کے لیے باعثِ شرمندگی ہیں اور یہ کھلاڑیوں کے وقار کو مجروح کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کھیلوں میں شمولیت اور برابری کو فروغ دینے کے بجائے یہ پالیسیاں امتیازی سلوک کو بڑھا رہی ہیں۔
واضح رہے کہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی نئی پالیسی کے تحت ٹرانس جینڈر اور کچھ انٹر سیکس کھلاڑیوں کی شرکت پر پابندیاں عائد کرنے اور جنس کی تصدیق کے لیے سائنسی ٹیسٹ متعارف کرانے پر غور کیا جا رہا ہے، جسے بعض حلقے خواتین کے کھیلوں کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں جبکہ ناقدین اسے امتیازی قرار دے رہے ہیں۔
یہ معاملہ عالمی کھیلوں میں برابری، انصاف اور انسانی حقوق کے درمیان توازن کے حوالے سے ایک بڑی بحث کا سبب بن چکا ہے جس پر مختلف حلقوں کی رائے منقسم ہے۔