عالمی قیمتوں میں اضافہ، پاکستان کو توانائی شعبے میں تحفظ حاصل

0 minutes, 0 seconds Read
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیز اضافے کے باعث پاکستان کی معیشت پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق توانائی  کے شعبے میں حالیہ برسوں میں ہونیوالی تبدیلیاں اس اثر کو کسی حد تک کم کر سکتی ہیں۔

ماضی میں 2008 اور 2022 میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافے نے پاکستان کی معیشت کو سخت متاثر کیا تھا، جس سے مہنگائی میں اضافہ، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور معاشی عدم استحکام پیدا ہوا لیکن اب توانائی  کے ذرائع میں تنوع کے باعث صورتحال نسبتاً بہتر دکھائی دیتی ہے۔

پاکستان میں شمسی توانائی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو اب مجموعی بجلی کے استعمال کا تقریباً 20 سے 25 فیصد حصہ بن چکی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس رجحان نے تیل اور گیس کی درآمدات میں نمایاں کمی کی ہے اور اربوں ڈالر کی بچت ممکن بنائی ہے۔

اسی طرح فرنس آئل سے بجلی پیدا کرنے کا حصہ گزشتہ دہائی میں تقریباً 35 فیصد سے کم ہو کر ایک فیصد سے بھی نیچے آ چکا ہے، جبکہ ایل این جی کا استعمال بڑھا ہے۔

مجموعی طور پر درآمدی ایندھن پر انحصار میں تقریباً 40 فیصد کمی آئی ہے۔ہائیڈرو پاور کی پیداوار میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم بڑے منصوبوں میں تاخیر کے باعث اس شعبے کی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کی جا سکی۔

تھر کول منصوبے کے تحت مقامی کوئلے کا استعمال بڑھا ہے، جو اب بجلی پیداوار میں 11 فیصد سے زائد حصہ ڈال رہا ہے اور مستقبل میں کھاد کی تیاری کیلیے بھی استعمال کیا جائے گا۔

نیوکلیئر توانائی بھی پاکستان کیلیے مستحکم ذریعہ بن کر ابھری ہے، جس کا حصہ 2015 میں 5 فیصد سے کم ہونے کے مقابلے میں اب 16 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔

اس کے باوجود، توانائی کی ترسیل کے نظام میں خامیاں، ٹرانسپورٹ کے شعبے میں تیل پر انحصاراورتوانائی  کے مؤثر استعمال میں کمی جیسے مساء ل بدستور موجود ہیں۔

ماہرین کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ اور توانائی بچت اقدامات کے ذریعے نہ صرف درآمدی بل کم کیا جا سکتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔

Similar Posts