حادثہ کہیں بھی ہو سکتا ہے، نشے کے عادی افراد شہر کیلیے بڑا چیلنج ہیں، میئر کراچی

0 minutes, 0 seconds Read
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ حادثہ کہیں بھی ہو سکتا ہے، نشے کے عادی افراد شہر قائد کے لیے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔

کلفٹن میں نجی سپر اسٹور میں آگ لگنے کے بعد جائے وقوع پر پہنچنے پر  میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ امدادی سرگرمیوں کی نگرانی جاری ہے۔ تمام متعلقہ ادارے موقع پر موجود ہیں اور اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ کنٹونمنٹ بورڈ کے نمائندے بھی وہاں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آگ لگنے کے بعد بروقت کارروائی کرتے ہوئے عملہ فوری طور پر موقع پر پہنچا اور ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی جبکہ عمارت میں موجود 24 سے 25 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔

آگ لگنے کے وقت انتظامیہ کے افراد بھی عمارت میں موجود تھے جنہیں نکالنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔

میئر کراچی نے مزید بتایا کہ واٹر باؤزرز، فائر ٹینڈرز اور ریسکیو 1122 کا عملہ بھی موقع پر موجود ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی طبی امداد کی ضرورت کو پورا کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور گرِلز نکال کر دھواں خارج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ راستے بھی بنائے جا رہے ہیں تاکہ جگہ کو جلد کلیئر کیا جا سکے۔ انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ اس وقت عمارت میں ان کا کوئی ملازم موجود نہیں ہے۔

میئر کراچی نے کہا کہ یہ علاقہ کنٹونمنٹ بورڈ کے زیر انتظام آتا ہے ۔ یہاں فائر سیفٹی آڈٹ بھی کیا گیا تھا، تاہم پھر بھی واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور مختلف عوامل کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو کا عمل جلد مکمل کرنا ترجیح ہے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔

انہوں نے گل پلازہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا گیا تھا اور اسی طرز پر یہاں بھی حقائق سامنے لائے جائیں گے۔ شہر بھر میں ڈپٹی کمشنرز اور دیگر ادارے فائر سیفٹی آڈٹ کر رہے ہیں ۔ صدر میں ایک مارکیٹ کو آڈٹ نہ ہونے پر سیل بھی کیا گیا تھا۔ بعض اوقات عوام کے مفاد میں سخت فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔

میئر کراچی نے نشے کے عادی افراد کو بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد اکثر ایسی جگہوں پر پہنچ جاتے ہیں جہاں لوہا یا دیگر سامان موجود ہو۔ گل پلازہ میں دوبارہ آگ لگنے کی ایک وجہ بھی یہی عناصر تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے وزیر داخلہ سے بات کی گئی ہے، انہوں نے پولیس کو نشے کے عادی افراد اور منشیات کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آگ لگنے کی وجوہات کا تعین بعد میں کیا جائے گا اور مکمل قابو پانے کے بعد تحقیقات شروع ہوں گی۔

میئر کراچی نے فائر فائٹرز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا عملی کام قابل تعریف ہے ، جسے سراہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ایم سی کی جانب سے فائر فائٹرز کو آلات کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے۔ یہ ادارہ ہر حال میں کام کر رہا ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گل پلازہ ہو یا ایکسپورٹ پروسیسنگ زون، بہادر فائر فائٹرز ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔ ڈی سی ساؤتھ بھی موقع پر موجود ہیں جن کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔

Similar Posts