ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ابراہیم ذوالفقاری نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کئی بار ایران کے خلاف زمینی کارروائی اور خلیج فارس کے جزائر پر قبضے کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسی کوئی کوشش کی گئی تو امریکی فوجیوں اور کمانڈروں کو شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں اور ان کی پالیسیوں نے امریکا، یورپ اور ایشیا سمیت دنیا کے کئی خطوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے ٹرمپ کو غیر مستحکم اور ناقابلِ اعتماد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
ابراہیم ذوالفقاری نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ امریکی صدر اسرائیلی دباؤ میں کام کر رہے ہیں اور خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ سفارتکاری کے نام پر زمینی حملے کی تیاری کو چھپا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے خلاف کوئی بھی پیش قدمی کی گئی تو ایرانی افواج بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
ادھر امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ پاکستان کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے اور جلد کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے، تاہم زمینی صورتحال اس کے برعکس بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کر رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں جانب سے سخت بیانات اس بات کا اشارہ ہیں کہ خطے میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے، جبکہ سفارتی کوششوں کے باوجود جنگ کے خدشات برقرار ہیں۔