مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے پیش نظر پاکستان میں مہنگائی کی شرح بڑھنے کا امکان

0 minutes, 0 seconds Read
وزارت خزانہ مشرق وسطیٰ جنگ کی وجہ سے مہنگائی میں نمایاں اضافے کا خدشہ ظاہر کردیا ہے جبکہ رواں ماہ مہنگائی 7.5 سے 8.5 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ماہانہ آؤٹ لک میں کہا گیا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ صنعتی لاگت بڑھا سکتا ہے، تیل مہنگا ہونے سے درآمدی بل بڑھنے کا خدشہ ہے تاہم عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود معیشت مستحکم رہنے کی امید ہے ۔

اعلامیے کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ (جولائی تا فروری)میں مالی خسارہ 64.7 ارب روپے رہا ہے اور پرائمری بیلنس 4 ہزار 151 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔

وزارت خزانہ نے بتایا کہ جولائی تا فروری کرنٹ اکاوٴنٹ خسارہ کم ہو کر 70 کروڑ ڈالر پر آگیا، براہ راست بیرونی سرمایہ کاری 33 فیصد کمی سے 1.19 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے وزارت خزانہ نے ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ آوٴٹ لک رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں مشرق وسطیٰ جنگ کی وجہ سے مہنگائی میں نمایاں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیاہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق رواں ماہ مہنگائی 7.5 سے 8.5 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ صنعتی لاگت بڑھا سکتا ہے، تیل مہنگا ہونیسے درآمدی بل بڑھنے کا خدشہ ہے۔

آؤٹ لک کے مطابق عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود معیشت مستحکم رہنے کی امید ہے۔ رپورٹ میں پاکستان کی معیشت کا قریبی منظرنامہ محتاط طور پر مثبت قرار دیا گیا جبکہ کہا گیا ہے کہ صنعتی شعبے میں بہتری کے آثار ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

وزارت خزانہ کے مطابق ٹیکسٹائل مشینری اور تعمیراتی اشیاء کی درآمد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، حکومت کی جانب سے پیٹرولیم ذخائر برقرار رکھنے کے اقدامات جاری ہیں توانائی کی طلب پر قابو اور اخراجات میں کمی پر توجہ ہے۔

آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق عید کے باعث بیرون ملک سے ترسیلات زر میں اضافہ متوقع ہے، آئی ٹی برآمدات میں بہتری سے زرمبادلہ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

جاری کھاتے کے حوالے سے وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ  کرنٹ اکاوٴنٹ خسارہ قابو میں رہنے کی توقع ہے جبکہ رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ میں ترسیلات زر میں 10.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

جولائی تا فروری ترسیلات زر کا حجم 8.12 ارب ڈالر رہا، اس دوران پاکستانی برآمدات میں 5.4 فیصد کمی آئی ،جولائی تا فروری ملکی برآمدات کا حجم 20.7 ارب ڈالر رہا۔

رپورٹ کے مطابق 8ماہ میں درآمدات 8.8 فیصد کمی سے 41.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جولائی تا فروری کرنٹ اکاوٴنٹ خسارہ کم ہو کر 70 کروڑ ڈالر پر آگیا، براہ راست بیرونی سرمایہ کاری 33 فیصد کمی سے 1.19 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیاہے۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی بیرونی سرمایہ کاری کا حجم صرف 70 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہا، 8ماہ میں ٹیکس ریونیو گزشتہ سال کے مقابلے 10.6 فیصد بڑھ گیا، جولائی تا فروری ٹیکس وصولی کا حجم 8 ہزار 122 ارب روپے رہا، اس دوران نان ٹیکس ریونیو 7.4 فیصد اضافے سے 4 ہزار 41 ارب روپے ریکارڈ کیا گیاہے۔

اس کے علاوہ جولائی تا فروری مالی خسارہ 64.7 ارب روپے رہا، پرائمری بیلنس 4 ہزار 151 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سات ماہ میں زرعی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں 11 فیصد اضافہ ہوا، جولائی تا جنوری زرعی قرضوں کا حجم ایک ہزار 649 ارب روپے رہا، اس دوران نجی شعبے کو بینکوں نے 887 ارب روپے قرضہ فراہم کیا، جولائی تا جنوری بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 5.75 فیصد بہتری آئی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 24.6 فیصد تک اضافہ ہوا اور ایک لاکھ 46 ہزار سیتجاوز کر گئی، اسٹیٹ بینک کیزرمبادلہ ذخائر 16.4 ارب ڈالر ریکارڈ کئے گئے ہیں۔

Similar Posts