ایک رپورٹ میں تحریر کیا گیا ہے کہ یہاں بھی خبر رسانی کو مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مغربی یورپ کے ایک معروف عالمی خبررساں ادارے کے ایک سابق صحافی جو اس ادارے کی عربی سروس میں طویل عرصے تک فرائض انجام دے رہے تھے، اکتوبر 2023 میں اسرائیل کی غزہ میں بمباری کی کوریج کو روکنے کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا ہے۔
اس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ غزہ تنازع کے دوران نشر ہونے والی خبروں اور تبصروں میں حقائق کے خلاف ایسا مواد شامل کیا کہ رائے عامہ اس گمراہ کن مواد سے متاثرہوئی۔
اس عالمی ادارے کی عربی سروس کے 5صحافیوں نے جب احتجاج کیا تو ان پانچوں کو ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑے۔ ٹریبونل کو بتایا گیا کہ ان کا جرم صرف ادارے کی ادارتی پالیسی سے انحراف پر اعتراض کرنا تھا۔
اس پر ادارے نے ایک اندرونی طور پر Internal Listening Session کا انعقاد کیا تو منیجمنٹ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ہم نے سامعین کو گمراہ کیا۔ اس عہدیدار نے اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے اعلان کے چھ ماہ بعد ملازمت سے استعفیٰ دیدیا تھا مگر شکایت کنندہ کہتے ہیں کہ جب تک وہ ملازمت میں رہے انھیں ہماری شکایت پر ہونے والی تحقیقات کے نتائج سے آگاہ نہیں کیا گیا۔
ان صحافیوں نے اپنے تحریری بیان میں کہا کہ اسرائیل کی فوجی کارروائی کے حوالہ سے کئی واقعات رونما ہوئے مگر یہ واقعات خبر کا حصہ نہیں بن سکے۔
ایک واقعے کا ذکر کیا گیا کہ اسرائیل پولیس کے اہلکاروں نے ایک صحافی پر تشدد کیا۔ اس واقعہ کو کور بھی کیا گیا۔ لیکن یہ خبر یا اس موضوع پر تبصرہ نشر نہیں ہوا اور نہ اپنے صحافی پر تشدد کے واقعے پر احتجاج کیا۔
درخواست گزار مسلسل یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ ان کی عرضداشت پر ہونے والے Listening Session کی کارروائی کو عام کیا جائے تاکہ ٹریبونل کے جج صاحبان حقائق سے آگاہ ہو کر اپنے فیصلے تحریر کریں۔
اسرائیل کی غزہ میں ہونے والی مسلسل فوجی کارروائی کا اپنے فرائض انجام دینے والے صحافی براہِ راست نشانہ بنائے گئے تو کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (C.P.J) کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ اسرائیل کی فوج نے گزشتہ سال سب سے زیادہ صحافیوں کو ہلاک کیا۔
2025 میں فلسطین اور لبنان میں صحافیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 125 سے زیادہ ہوگئی۔ سی پی جے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جب سے اس تنظیم نے کام شروع کیا ہے مرنے والے صحافیوں کی یہ تعداد سب سے زیادہ ہے۔
مگر معاملہ صرف صحافیوں کی ہلاکتوں تک محدود نہیں، معروضیت کے اصولوں کے تحت کام کرنے والے پیشہ ور صحافیوں کو برطرف کیا جارہا ہے۔
ایک امریکی خاتون صحافی کے بارے میں ایک عالمی ٹی وی کی ایک رپورٹ میں دکھایا گیا کہ دائیں بازو کے انتہاپسند عناصر نے اس صحافی کے خلاف معاندانہ مہم شروع کی۔ لیکن اس خاتون صحافی کے ادارے کی انتظامیہ اس جھوٹی مہم کے آگے سر جھکا کر کھڑی ہوگئی اور اس صحافی کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔
یہ خاتون صحافی 2021 تک فلسطینی عوام کی حق خود ارادیت کی تحریک میں شریک تھیں، یہی بات اس کا جرم بن گئی۔ یہ خاتون صحافی ان کی ایک پوسٹ کی بناء پر انتہاپسندوں کا نشانہ بن گئیں۔
آسٹریلین صحافی کو 2023میں غزہ کے حالات پر ایک پروگرام کی بناء پر برطرف کیا گیا۔ اس پروگرام کے خلاف اسرائیل کے ایجنٹوں نے ایک افسوس ناک مہم چلائی ہوئی تھی۔ آسٹریلیا کے ایک رکنی ٹریبونل کے سامنے جو حقائق پیش کیے گئے وہ اس واقعے سے متعلق نہیں تھے۔
اس صحافی کو محض اس بناء پر ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑے جب موصوف کے سوشل میڈیا پر پیش کیے جانے والے خیالات حکومت کو ناگوار گزرے۔ اس صحافی کا کہنا ہے کہ اس باشعور دنیا میں بعض حقائق تو بہت چونکا دینے والے ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کے سیاسی خیالات کی بناء پر انھیں معتوب کیا گیا۔ وہ خود بھی بیمار ہیں اور ان کے علاج کے لیے عدالتی فیصلہ کے تحت 45,400 ڈالر ادا کیے گئے۔
جدید جمہوری دور میں سمجھا جاتا ہے کہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے۔ میڈیا کا بنیادی کام ریاست کے دیگر تینوں ستونوں کا احتساب کرنا ہے۔ میڈیا یہ فریضہ انجام دے کر عوام کو شعور دیتا ہے۔
عوام اس شعور کی بناء پر اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں اور ان کے احتساب کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں۔
جب میڈیا کے تمام پلیٹ فارم سے پرنٹ کرنے، نشر کرنے، ٹیلی کاسٹ کرنے کے لیے پیش کیے جانے والے مواد کو سنسر کیا جائے گا اور حقائق کو توڑا مروڑا جائے گا تو یہ چوتھا ستون عوام کو صحیح حقائق سے آگاہ نہیں کرسکے گا اور یہ صورتحال اشرافیہ کے اقتدار کو مستحکم کرے گی۔
یوں ریاست کی عوام کے تابع ہونے کا نظریہ باطل ہوجائے گا۔ یورپی ممالک میں آزادئ صحافت اور آزادئ اظہار پر پابندیوں سے انتہاپسند عناصر کو تقویت ملے گی۔
عوام کے حقوق کو خاطر میں نہ لانے کی روایت ایشیائی ممالک میں بھی سرایت کررہی ہے۔ بھارت اور پاکستان میں بھی صحافی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔
اسلام آباد میں خواتین کا عالمی دن منانے والی صحافیوں اور خواتین کارکنوں کے علاوہ باشعور سیاسی اور سماجی کارکنوں پر پولیس کا تشدد اور بعض کو تھانوں میں بند کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں ایک منصوبہ بندی کے تحت سویلین اسپیس کو محدود کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔