آن لائن اسکیمنگ، پاکستانی نوجوانوں ٹریپ ہونے لگے

0 minutes, 0 seconds Read
آن لائن اسکیمنگ، پاکستانی نوجوانوں کیلیے دورجدید کا بیگارکیمپ، سوشل میڈیا اوردیگرآن لائن پلیٹ فارمز پر ٹارگٹڈ اشتہارات کے ذریعے نوجوانوں کوبیرون ملک بھاری تنخواہوں کی حامل پرکشش ملازمتوں، مفت ٹکٹ، ویزہ اوررہائش کے سہانے خواب دکھائے جاتے ہیں۔ 

بہترمستقبل کیلیے تگ ودوکرنے والے پاکستانی نوجوان بغیر تصدیق ان کمپنیوں پراندھا اعتماد کرکے بند گلی میں پہنچ جاتے ہیں۔

ڈپٹی ڈائریکٹرایف آئی اے امیگریشن شہزاد اکبر کا ایکسپریس نیوزسے خصوصی گفتگو میں کہنا تھا کہ روایتی ڈنکی جو کہ سن 90 سے سن 2000 کی دہائی میں ہوا کرتا تھا، اس میں عموماً وہ لوگ ہوا کرتے تھے، جومالی اعتبارسے بہت زیادہ کمزور تھے۔

مگرآج کے جدید دورمیں وہ طبقہ ٹریپ ہورہا ہے، جوپڑھا لکھا ہے اوراپنے مالی حالات کوبہترکرنے کی کوششوں میں مگن ہے۔

مختلف سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پرتعلیم یافتہ پاکستانی نوجوان ان بظاہرچمکتے دمکتے مگردرحقیقت گھپ اندھیروں کے حامل ان اشتہارات سے متاثردکھائی دیتاہے،جوکہ ٹارگیٹیڈ مارکیٹنگ کے طورپراس کے مشاہدے کا حصہ بنتے ہیں۔

یہ کمپنیاں اکثرورک ویزے کی فیس ڈبل ہونے کی بنا پرنوجوانوں کووزٹ ویزے پربلوا لیتی ہے، جس کی وجہ سے ابتدا ہی جھانسے کے شکارنوجوان کا قیام اس ملک میں ال لیگل اسٹیٹس بن جاتاہے۔

ایک اورحربہ یہ اسکیمنگ کمپنیاں اپناتی ہے کہ اس فرد کا پاسپورٹ پہلے ہی اپنے پاس رکھ لیتی ہے، پھریہاں ایک نیا کھیل شروع ہوجاتا ہے۔

شہزاد اکبرکے مطابق جب نوجوان کی ٹریننگ مکمل ہوجاتی ہے تو اس سے بلامعاوضہ مشقت لینے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور کسی بیگارکیمپ کی طرز پر اس سے جبراً یا ڈر کے ماحول میں گھنٹوں کام لیا جاتا ہے، اگروہ اکتا کرجاب چھوڑنے کی دھمکی دیتا ہے تواس کے حوالے سے ملک کے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کواطلاع دینے کی دھمکی یا عملی طورپرعملدرآمد کا سامنا رہتاہے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستانی نوجوان کی سفارت خانے کوفریاد نقارخانے میں کسی طوطی کے مصداق سودمند ثابت نہیں ہوتی۔

پکڑے جانے کے بعد وہ ممالک اسے ڈی پورٹ کردیتی ہے، جس سے اس نوجوان کا پروفائل ریڈ لسٹ میں آجاتا ہے، اس کے بعد کسی دوسرے ملک کا فضائی سفراس کیلیے مستقل مشکلات کا سبب بن جاتا ہے۔

Similar Posts