ایران جنگ پر اختلاف: یورپ نے متعدد امریکی فوجی آپریشنز کیسے ناکام بنائے؟

0 minutes, 0 seconds Read

ایران کے خلاف جاری جنگ کے معاملے پر امریکا اور یورپی ممالک کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں، فرانس اور اٹلی نے بعض امریکی کارروائیوں سے انکار کر دیا جبکہ اسپین نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو ممالک کو ’’غیر مددگار‘‘ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ایران کے خلاف جاری ایک ماہ طویل جنگ کے دوران امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ذرائع کے مطابق فرانس اور اٹلی نے بعض امریکی و اسرائیلی فوجی آپریشنز کے حوالے سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا، جس سے مغربی اتحاد میں اختلافات نمایاں ہو گئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے نیٹو اتحادیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس سے قبل بھی وہ یورپی ممالک کو جنگ میں تعاون نہ کرنے پر’’بزدل‘‘ قرار دے چکے ہیں، جبکہ تازہ بیان میں انہوں نے ان ممالک پر تنقید کی جو امریکی و اسرائیلی حملوں میں شامل نہیں ہوئے۔

ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ فرانس نے اسرائیل کو فوجی سامان لے جانے والے طیاروں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر فرانس کو ’’انتہائی غیر مددگار‘‘ قرار دیا۔

فرانسیسی صدر دفتر نے ان الزامات پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ شروع دن سے اپنائی گئی پالیسی کے مطابق ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق جنگ کے آغاز (28 فروری) کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب فرانس نے اس نوعیت کی اجازت دینے سے انکار کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل فرانس کی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے امریکا سے اسلحہ ایران کے خلاف جنگ کے لیے منتقل کرنا چاہتا تھا۔ اسرائیلی وزارت دفاع نے بھی فرانس پر اسلحے کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام عائد کیا اور اعلان کیا کہ وہ فرانس سے دفاعی خریداری ختم کر دے گا۔

دوسری جانب اٹلی نے بھی گزشتہ ہفتے امریکی فوجی طیاروں کو سسلی کے سگونیلا ایئر بیس پر لینڈنگ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

اطالوی وزیر دفاع گوئیدو کروسیٹو نے تاہم کسی بھی پالیسی تبدیلی یا امریکا سے اختلاف کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اڈے فعال ہیں، مگر مخصوص مشنز کے لیے خصوصی اجازت درکار ہوتی ہے۔

اسی طرح اسپین نے بھی ایران پر حملوں میں شامل امریکی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود مکمل طور پر بند کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا۔

ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے امریکی و اسرائیلی کارروائیوں پر کھل کر تنقید کی، جبکہ وزیر دفاع مارگریٹا روبلز نے واضح کیا کہ اسپین صرف نیٹو کے اجتماعی دفاع کے لیے اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے گا۔

اُدھر ٹرمپ نے برطانیہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایران کے خلاف کارروائی میں حصہ نہ لینے والے ممالک کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے ممالک امریکا سے ایندھن خریدیں اور ہمت کا مظاہرہ کریں۔

Similar Posts