تہران نے مذاکرات نہ بھی کیے تو ایران سے نکل جائیں گے: صدر ٹرمپ

0 minutes, 0 seconds Read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کا مقصد ایران میں حکومت تبدیل کرنا نہیں تھا اور امریکی افواج اگلے دو سے تین ہفتوں کے دوران ایران سے نکل جائیں گی۔

صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس انخلا سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑے سمجھوتے یا ڈیل کا قوی امکان ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر تہران مذاکرات کی میز پر آتا ہے تو یہ بہت اچھی بات ہوگی، لیکن اگر وہ مذاکرات کے لیے نہیں بھی آتے تب بھی امریکا ایران سے نکل جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے ایران کی موجودہ نئی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے انہیں سمجھدار قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ امریکا نے اس جنگ میں اپنے تمام مقاصد حاصل کر لیے ہیں، جس کے بعد ایران اگلے پندرہ سال تک جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہیں رہے گا۔

صدر ٹرمپ نے بین الاقوامی برادری بالخصوص فرانس جیسے ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کو تیل یا گیس کی ضرورت ہے تو وہ خود آبنائے ہرمز جائے یا امریکا سے تیل خریدے، اب ان کے جہازوں کی حفاظت کرنا امریکا کی ذمہ داری نہیں ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ اب اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہی ہے اور واشنگٹن کو اس تنازع کی ’فیش لائن‘ یعنی اختتامی لکیر صاف دکھائی دے رہی ہے۔

ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ جنگ آج یا کل ختم نہیں ہوگی، لیکن اس کا خاتمہ اب زیادہ دور نہیں ہے۔

مارکو روبیو نے انکشاف کیا کہ اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے اور پسِ پردہ مذاکرات جاری ہیں۔

انہوں نے اس بات کا قوی امکان ظاہر کیا کہ کسی بھی وقت دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست ملاقات بھی ہو سکتی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک اس وقت ایران کی ایسی مدد نہیں کر رہا جس سے امریکی مشن میں کوئی رکاوٹ پیدا ہو۔

جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی امریکی وزیر خارجہ نے نیٹو ممالک کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کا بھی اشارہ دیا ہے۔

انہوں نے شکوہ کیا کہ جب امریکا کو اپنے اتحادیوں کی ضرورت پڑی تو انہوں نے فوجی اڈوں کے استعمال اور اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے بعد صدر ٹرمپ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا یہ اتحاد اب بھی امریکا کے مفاد میں ہے یا یہ محض ایک طرفہ راستہ بن چکا ہے جہاں امریکا تو یورپ کا دفاع کرتا ہے لیکن ضرورت پڑنے پر اسے تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی جنگ بندی کے حوالے سے ایک اہم بیان جاری کیا ہے۔

ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ ایران امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے لیے ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ امریکا یا اسرائیل کی جانب سے دوبارہ حملہ نہ کرنے کی مستند اور تحریری ضمانت دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں مذاکرات کے دوران ہی امریکا نے دو مرتبہ حملے کیے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ سفارت کاری پر مکمل یقین نہیں رکھتے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس موقف کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب صرف عارضی طور پر ہتھیار ڈالنے یا سیز فائر کا وقت نہیں بلکہ جنگ کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ دوبارہ حملے نہ ہونے کی ضمانت کے ساتھ ساتھ جنگ کے دوران ایران کو ہونے والے مالی اور جانی نقصانات کا ازالہ بھی کیا جانا چاہیے۔

Similar Posts