رائٹرز نے بتایا کہ ایک باخبر ذریعے کا کہنا تھا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران تنازع کے حوالے سے ثالثی کرنے والے پاکستانی رابطہ کاروں سے بات کی، جو اس بات کی علامت ہے کہ تنازع کے خاتمے کے لیے ان کے کردار میں وسعت آ رہی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر جے ڈی وینس نے ذاتی طور پر اشارہ دیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی کے لیے تیار ہیں تاہم اس کے لیے شرف یہ ہے کہ امریکا کے بعض مطالبات پورے کیے جائیں۔
اس ضمن میں ذرائع نے بتایا کہ جے ڈی وینس نے ایک سخت پیغام بھی پہنچایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جلدی میں ہیں اور خبردار کیا کہ اگر تہران کسی معاہدے پر آمادہ نہ ہوا تو ایرانی بنیادی ڈھانچے پر دباؤ بڑھایا جائے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ اس وقت پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جے ڈی وینس نے پانچویں ہفتے میں داخل ہونے والی ایران-امریکا-اسرائیل جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں زیادہ فعال کردار اختیار کر لیا ہے، ٹرمپ کے ممکنہ جانشین کے طور پر 2028 کے صدارتی انتخابات میں اہم امیدوار تصور کیے جانے والے جے ڈی وینس نے اس تنازع میں محتاط رویہ اپنایا ہے، جو امریکا کی طویل مدتی فوجی مداخلت پر ان کے پرانے خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے جو ٹیم بنائی تھی وہ مذاکرات میں مصروف ہے، نائب صدر جے ڈی وینس، سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو اور امریکی خصوصی نمائندگان اسٹیو ویٹکوف اور جیراڈ کشنر بھی مذاکرات میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اس امید کے ساتھ ایران کے توانائی کے نیٹ ورک پر حملے 6 اپریل تک مؤخر کر دیے گئے ہیں کہ تہران کے ساتھ معاہدہ ہوجائے لیکن ایسا نہیں ہوا تو امریکا ایرانی بنیادی ڈھانچے پر حملے کرے گا۔